شک کا فائدہ: اغوا برائے تاوان کے ملزم کی عمر قید کالعدم، 12 سال بعد بری

Calender Icon بدھ 19 اگست 2026

سپریم کورٹ نے اغوا برائے تاوان کے ملزم کو 12 سال بعد بری کر دیا، عدالت عظمیٰ نے ملزم عبدالرزاق کی بریت کی اپیل منظور کرتے ہوئے عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔

سپریم کورٹ نے ملزم عبدالرزاق کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ فریقین کے درمیان زمین کا تنازع چل رہا تھا، شکایت کنندہ سمیت کوئی بھی شخص مبینہ اغوا کا عینی شاہد نہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم سے 3 لاکھ روپے کی برآمدگی بھی مشکوک ہے، تاوان کے نام پر برآمد کی گئی رقم پر کسی قسم کی کوئی نشانی موجود نہیں تھی۔

مزید پڑھیں:بھارت میں غیر ذمہ دارانہ بیانیہ، امریکی ناظم الامور دفترخارجہ طلب، شدید احتجاج

خیال رہے کہ ٹرائل کورٹ نے چاروں ملزمان کو عمر قید اور جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ نے 3 ملزمان کو بری کر دیا تھا، عبدالرزاق کی عمر قید برقرار رکھی تھی۔ملزمان کے خلاف 2014 میں نارووال میں اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔