امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین

Calender Icon جمعہ 21 اگست 2026

بیجنگ:  چین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔

واشنگٹن اس سے قبل چین سمیت مختلف حکومتوں سے ایران کی معیشت کو الگ تھلگ کرنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پابندیاں اور دباؤ اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اقدامات کریں اور مسئلے کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی اقتصادی مہم ایرانی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی، جبکہ تہران اس دھمکی کو معاشی دہشت گردی قرار دیتا ہے اور اسے ناکامی سے دوچار سمجھتا ہے۔

جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا بیجنگ پر اس مہم میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالے گا، تو انہوں نے سی این بی سی کو بتایا کہ بہت سے معاملات پر بات چیت خفیہ طور پر کرنا بہتر ہوتا ہے، تاہم انہوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام میں شامل ہو جائے۔

مزید پڑھیں:کھڈ کوچہ، مستونگ میں فائرنگ و مبینہ ڈرون حملہ، 4 افراد جاں بحق، 3 زخمی

سکاٹ بیسنٹ کے بیان کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ چین ایسی غیر قانونی یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جن کی بنیاد بین الاقوامی قانون میں موجود نہیں اور جنھیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل نہیں۔