ڈیفنس نیوز ویب سائٹ ٹی ڈبلیو زیڈ کے مطابق امریکی بحریہ نے فضا سے فضا میں انتہائی طویل فاصلے تک مار کرنے والے نئے اور جدید میزائل ‘اے آئی ایم-424 مالس’ (AIM-424 Malice) کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔
امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی گزشتہ اپریل کی ایک تصویر میں نیوی ائیر ٹیسٹ اینڈ ایویلیوایشن اسکواڈرن 23 کے ایک F-18 سپر ہارنیٹ طیارے کو ان 4 میزائلوں سے لیس دکھایا گیا ہے۔
امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک اور تصویر میں اس میزائل کو جدید ترین F-35C طیارےکے ویپنز بے میں نصب دکھایا گیا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق AIM-424 لانگ رینج ائیر ٹو ائیر میزائل (LRAAM) جو پہلے ہی آزمائش کے مراحل سے گزر رہا ہے، F-18 سپر ہارنیٹ، F-35C جوائنٹ اسٹرائیک فائٹرز اور آئندہ آنے والے F/A-XX نیکسٹ جنریشن نیول فائٹر کو مسلح کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق یہ میزائل طویل عرصے سے زیرِ استعمال AIM-120 AMRAAM اور نئے AIM-260 جوائنٹ ایڈوانسڈ ٹیکٹیکل میزائل کے مقابلے میں واضح طور پر بڑا اور نمایاں طور پر زیادہ فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پینٹاگون برسوں سے ملٹی اسٹیج ائیر ٹو ائیر میزائلوں میں دلچسپی لے رہا ہے اور اب وہ ایسے میزائل تیار کرنے کے ہدف پر کام کر رہا ہے جو آنے والے سالوں میں ایک ہزار میل کے فاصلے تک مار کر سکیں۔
ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ خاص طور پر چین کے ساتھ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے فرق کو ختم کرنا اور اس سلسلے میں چینی فو ج کی صلاحیتوں سے نمایاں طور پر آگے نکلنا پینٹاگون کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔
امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس میزائل کا وزن تقریباً 1500 پاؤنڈ اور اس کی رینج 250 ناٹیکل میل یا 463 کلومیٹر سے زائد ہے۔
مزید پڑھیں:او جی ڈی سی کی سینئر مینجمنٹ کی ’تنخواہوں‘ کی تفصیلات سینیٹ میں پیش
ویب سائٹ کے مطابق یہ امکان بھی موجود ہے کہ ان اعداد و شمار اور بالخصوص میزائل کی رینج کو کاؤنٹر انٹیلی جنس مقاصد کے لیے جان بوجھ کر کم کرکے بتایا گیا ہو۔













منگل 25 اگست 2026 

