’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

Calender Icon ہفتہ 29 اگست 2026

تباہ کن سیلاب اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے بعد غیرملکی سرچ اینڈ ریسکیو(Search and rescue) ٹیموں کی مدد لینے سے انکار کرنے والی نیپالی حکومت نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے بین الاقوامی امداد قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

نیپال نے ابتدا میں کہا تھا کہ اسے غیرملکی ریسکیو ٹیموں کی ضرورت نہیں اور ملکی سیکیورٹی ادارے خود امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں، تاہم ان ممالک کے دباؤ کے بعد حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی جن کے شہری سیلاب کے بعد تاحال لاپتا ہیں۔

نیپالی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے جمعہ کو کہا تھا کہ کئی ممالک کی جانب سے مدد کی پیشکش فطری عمل ہے، تاہم اس وقت نیپال کو غیرملکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی ضرورت نہیں۔


انہوں نے کہا تھا کہ مدد کی پیشکش فطری ہے، ہمارے سیکیورٹی ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں۔ فی الحال ہمیں ایسی مدد کی ضرورت نہیں۔

بعد ازاں نیپالی حکومت نے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے غیرملکی ماہرین کو مخصوص امدادی سرگرمیوں میں معاونت کی اجازت دینے پر اتفاق کیا۔ حکام کے مطابق بین الاقوامی ماہرین سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنے اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی شناخت کے عمل میں مدد فراہم کرسکیں گے۔

مزیدپڑھیں:سوئٹزرلینڈ کے کسان نے دنیا کی سب سے طویل مرچ اُگا لی، ‘گنیز ورلڈ ریکارڈ’ قائم

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے چینی سرحد کے قریب واقع ضلع راسووا سمیت کئی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ سیلابی ریلوں نے کئی قصبوں کو تباہ کردیا، متعدد عمارتیں بہہ گئیں جبکہ پن بجلی کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 500 تک پہنچ چکی ہے۔

سیلاب کے نتیجے میں سینکڑوں غیرملکی شہری بھی لاپتا ہیں، جن میں جنوبی کوریا کے شہری بھی شامل ہیں۔ جنوبی کوریا نے نیپال میں ایک رسپانس ٹیم بھیجنے کے ساتھ مزید ایک ڈیزاسٹر ریلیف ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ سیول نے بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے نیپال کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی انسانی امداد کا وعدہ بھی کیا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے مطابق نیپال میں ایک پن بجلی گھر میں کام کرنے والے 9 جنوبی کوریائی شہری لاپتا ہیں جبکہ 10 دیگر وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت، چین، امریکا، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، سری لنکا اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک نے نیپالی حکومت سے اپنے سرچ اینڈ ریسکیو دستے بھیجنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔


غیرملکی امدادی ٹیموں کو اجازت نہ دینے کے ابتدائی فیصلے پر نیپال کے سابق سفیر برائے اقوام متحدہ جنیوا، دنیش بھٹارائی نے کہا تھا کہ حکومت کی ہچکچاہٹ کی وجہ سیلاب سے شدید متاثرہ ضلع راسووا کی جغرافیائی حساسیت ہوسکتی ہے، کیونکہ یہ علاقہ چین کے تبت کے علاقے سے متصل ہے۔

بھٹارائی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ممکن ہے حکومت نے علاقے کی حساس جغرافیائی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے غیرملکی ٹیموں کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہو۔

تاہم نیپالی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیرملکی ٹیموں کو اجازت نہ دینے کے فیصلے کا چین سے متعلق کسی حساسیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق نیپال کے اپنے امدادی اور سکیورٹی دستے ریسکیو آپریشن سنبھال رہے تھے۔

اب حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد غیرملکی ماہرین مخصوص ریسکیو اور شناختی کارروائیوں میں معاونت کریں گے، جبکہ نیپال کی اپنی امدادی ٹیمیں بھی آپریشن جاری رکھیں گی۔ مختلف ممالک بھی اپنے لاپتا شہریوں کی تلاش اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔