امریکی محکمہ خزانہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا امکان رکھتا ہے، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ(scott bessent) نے اتوار کو رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا آغاز بینکوں سے کیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ کسی مالیاتی ادارے کو مکمل طور پر ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان امریکا کی جانب سے جمعہ کو متحدہ عرب امارات میں مصر کے بینک مصر کی شاخوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی حکام نے ان اداروں پر ایران سے مبینہ مالی روابط رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
Bessent expects new US secondary sanctions weekly, aiming to increase pressure on Iran https://t.co/V63CO3eQdW https://t.co/V63CO3eQdW
— Reuters (@Reuters) August 31, 2026
بیسنٹ نے کہا کہ آئندہ ہر ہفتے اس نوعیت کی مزید کارروائیاں دیکھنے میں آئیں گی۔ ’ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور انہیں واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقوم رکھنا اور ایرانی حکومت کی مدد کرنا قابل قبول نہیں۔‘
مزیدپڑھیں:آزاد کشمیر میں آج سے مرحلہ وار انٹرنیٹ بحالی کا اعلان
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ جی20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاشی روابط محدود یا ختم کیے جائیں، بصورت دیگر متعلقہ اداروں اور ممالک کو امریکی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ کا کہنا تھا کہ کسی ادارے کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر کاٹ دینا بھی امریکا کے زیر غور اقدامات میں شامل ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جی20 کے مالیاتی رہنماؤں کا اجلاس ہونے جا رہا ہے اور امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔













پیر 31 اگست 2026 

