ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کیلئے امریکا کا ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ

Calender Icon پیر 31 اگست 2026

امریکی محکمہ خزانہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا امکان رکھتا ہے، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ(scott bessent) نے اتوار کو رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا آغاز بینکوں سے کیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ کسی مالیاتی ادارے کو مکمل طور پر ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے خارج کیا جا سکتا ہے۔

یہ بیان امریکا کی جانب سے جمعہ کو متحدہ عرب امارات میں مصر کے بینک مصر کی شاخوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی حکام نے ان اداروں پر ایران سے مبینہ مالی روابط رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔


بیسنٹ نے کہا کہ آئندہ ہر ہفتے اس نوعیت کی مزید کارروائیاں دیکھنے میں آئیں گی۔ ’ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور انہیں واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقوم رکھنا اور ایرانی حکومت کی مدد کرنا قابل قبول نہیں۔‘

مزیدپڑھیں:آزاد کشمیر میں آج سے مرحلہ وار انٹرنیٹ بحالی کا اعلان

امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ جی20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاشی روابط محدود یا ختم کیے جائیں، بصورت دیگر متعلقہ اداروں اور ممالک کو امریکی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بیسنٹ کا کہنا تھا کہ کسی ادارے کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر کاٹ دینا بھی امریکا کے زیر غور اقدامات میں شامل ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جی20 کے مالیاتی رہنماؤں کا اجلاس ہونے جا رہا ہے اور امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔