اسلام آباد: اسلام آباد پولیس کے انڈسٹریل ایریا زون کے سربراہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) عدیل اکبر کی خودکشی کے واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ سرینا ہوٹل چیک پوسٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب وہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین جاری کرکٹ سیریز کے لیے سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ایس پی عدیل اکبر نے مبینہ طور پر ایک ساتھی افسر کی سیکیورٹی ڈیوٹی سے پستول لیا اور خود کو گولی مار لی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ یہ واقعہ جمعرات کے دوپہر کے وقت پیش آیا، جب دارالحکومت میں کرکٹ میچز کے باعث سیکیورٹی ہائی الرٹ پر تھی۔
تحقیقات ابھی جاری ہیں، اور اسلام آباد پولیس نے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم ریٹائرڈ پولیس افسران نے پولیس فورس میں بڑھتی ہوئے ذہنی دباؤ کی ممکنہ وجوہات میں بھاری سیکیورٹی ذمہ داریاں، فرائض کی ادائیگی میں سیاسی مداخلت اور پولیس اہلکاروں کے لیے فلاح و بہبود کے وسائل کی کمی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عدیل اکبر ترقی نہ ملنے کی وجہ سے بھی شدید ڈپریشن کا شکار تھے، عدیل اکبر کے تمام بیچ میٹ گزشتہ سال ایس پی کے عہدے پر پروموٹ ہوگئے تھے جبکہ عدیل اکبر کی آئندہ بورڈ تک ترقی کو ملتوی کیا گیا تھا۔
ایس پی عدیل اکبر پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کیڈر کے ایک معزز افسر تھے، جنہوں نے بلوچستان میں سیکیورٹی مینجمنٹ، انسداد دہشت گردی، اور کمیونٹی پولیسنگ کے شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ حال ہی میں ان کا تبادلہ اسلام آباد میں ہوا تھا، جہاں وہ اہم ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
پولیس حکام سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات کی جانچ کر رہے ہیں۔












جمعرات 23 اکتوبر 2025 