سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہفتے کے روز دھوئیں کے سیاہ بادل اور شعلے دکھائی دیے، جبکہ ریاض اور قریبی شہر الخرج میں ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ریاض کے مختلف علاقوں سے دھماکوں جیسی آوازیں بھی سنی گئیں اور ایئرپورٹ کے قریب سے سیاہ دھوئیں کا ایک بڑا بادل بلند ہوتا دکھائی دیا۔ سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے فوری طور پر دھوئیں کی وجہ سے متعلق رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
سعودی سول ڈیفنس نے رات اور پھر ہفتے کی صبح ریاض اور الخرج میں شہریوں کے موبائل فونز پر ممکنہ خطرے کے الرٹس جاری کیے، جو بعد میں صورتحال معمول پر آنے کے بعد واپس لے لیے گئے۔ حکام نے شہریوں کو الرٹس کے دوران کھلی جگہوں، شیشوں، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہنے، محفوظ عمارت میں پناہ لینے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کے دوران سامنے آئی ہے، جن کے جولائی سے حملے تیز ہونے کی وجہ سے خطے کی توانائی اور عالمی تیل سپلائی کے راستوں کو خطرات لاحق ہیں۔













ہفتہ 19 ستمبر 2026 

