مارچ التواء کیلئے خط لکھنے کا معاملہ، شوکت یوسفزئی اپنے خلاف ٹرولنگ پر لائیو شو میں رو پڑے۔

Calender Icon بدھ 30 ستمبر 2026

پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی لانگ مارچ ملتوی کرنے کے حوالے سے پارٹی قیادت کو لکھے گئے خط کے بعد سوشل میڈیا ٹرولنگ اور پارٹی رویے پر لائیو شو کے دوران رو پڑے۔

نجی نیوز چینل  کے پروگرام  میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا سینئر پارٹی ممبر ہونے کے ناطے میں نے خدشے کا اظہار کیا تھا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میرے خط سے متعلق جو کہا وہ مجھے برا لگا، مجھے سہیل آفریدی سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے جب 4 اکتوبر کو مارچ کا اعلان کیا، میں نے کہا سب سے پہلے میں ہوں گا، میرے خلاف سوشل میڈیا پر جو زبان استعمال ہوئی اس پر مجھے افسوس ہے، 9 مئی کے بعد جتنے لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں انھوں نے سخت وقت دیکھا۔لانگ مارچ فوری ملتوی کیا جائے، شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین کو خط لکھ دیا

شوکت یوسفزئی پروگرام میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ مجھ پر شک کیا جا رہا ہے کہ میں بک گیا ہوں، میں اصول کی بات کرتا ہوں، مجھے کس چیز کا ڈر اور خوف نہیں، میں نے سہیل آفریدی کا دفاع کیا کہ وہ دہشت گردوں کے سہولت کار نہیں۔

مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں دہشتگردی پر سخت سوالات، سہیل آفریدی سے صحافی کا دوٹوک مکالمہ

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا 26 نومبر احتجاج کے دوران بھی میں نے اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا تھا، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے، یہ بے غیرت ہیں، میرے پارٹی چھوڑنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔