مکہ مکرمہ: حرمِ کعبہ میں خودکش حملہ آور کی موجودگی کی افواہ، سعودی حکام کی تردید

Calender Icon جمعہ 2 اکتوبر 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام (Masjid al-Haram)کے قریب خودکش حملہ آور کی موجودگی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو سعودی حکام نے مسترد کردیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق سعودی حکام نے کہا ہے کہ مسجد الحرام میں خودکش حملہ آور ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تاہم ایک شخص کو راہ گیروں کو ہراساں کرنے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

سعودی سیکیورٹی حکام نے جمعے کو امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مقدس شہر میں ایک شخص کو راہ گیروں کو ہراساں کرنے اور ان میں خوف و ہراس پھیلانے پر گرفتار کیا گیا، جس کے خلاف فوری کارروائی کی گئی۔


سعودی سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں کہ گرفتار شخص خودکش حملہ آور تھا۔

مزیدپڑھیں:صدر اور وزیراعظم کی میٹنگ میں گورنرراج سے متعلق کیا بات ہوئی؟ ناصر شاہ نے بتا دیا

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی حکام تصدیق کرتے ہیں کہ واقعے کے حوالے سے گردش کرنے والے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں۔

حکام کی جانب سے گرفتار شخص کی شناخت یا اس کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔


واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کر رہے تھے کہ دھماکا خیز مواد سے بھری جیکٹ پہنے ایک مبینہ خودکش حملہ آور خانہ کعبہ کی جانب بڑھا، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے گرفتار کرلیا۔

خانہ کعبہ مسجد الحرام کے وسط میں واقع ہے اور مسلمانوں کے لیے اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔

سعودی حکام کے وضاحتی بیان کے بعد خودکش حملہ آور سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات کی سرکاری طور پر تردید ہوگئی ہے۔