ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر انتہائی نازک اور حساس مرحلے میں داخل ہو گئے تو دوسری طرف امریکا مسلسل مشرق وسطیٰ(Middle East) میں اپنی موجودگی بڑھاتا جارہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی بحریہ کا مزید 4 ہزار سے زیادہ میرینز اور سیلرز پر مشتمل گروپ مشرق وسطیٰ روانہ ہوگیا، ۔ رپورٹ کے مطابق ایران کیخلاف آئندہ فوجی آپشنز کیلئے امریکی بحری طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔
نومبر میں مشرق وسطیٰ میں 3 امریکی ایئرکرافٹ کیریئرز کی تعیناتی متوقع ہے۔ تین امریکی ایئرکرافٹ کیریئرز کے ساتھ تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات ہوسکتے ہیں ۔ امریکی بحری گروپس میں 150 تک لڑاکا طیارے اور متعدد ڈسٹرائرز شامل ہوں گے۔
مزیدپڑھیں:اداکار امیتابھ بچن شوٹنگ کے دوران گر کر زخمی، مداح تشویش میں مبتلا
دوسری طرف امریکا اور ایران کے درمیان قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے تجاویز کے تبادلے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان شدید عدمِ اعتماد اور بنیادی امور پر اختلافات برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاحال کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آسکا۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بالواسطہ رابطوں کے بعد تہران نے مذاکرات بحالی کے لیے 7 روزہ پلان پیش کیا تھا لیکن واشنگٹن نے شرط رکھی کہ ایران پہلے جوہری پروگرام اور سیکیورٹی ضمانتوں پر ٹھوس پیش رفت کرے ۔ اب امریکا نے ایرانی وفد کو نیویارک چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے جسے انتہائی باعث تشویش سمجھا جارہا ہے ۔













جمعہ 2 اکتوبر 2026 

