مذاکرات اچھی چیز، دھرنوں و احتجاج سے معیشت پر بوجھ پڑتا ہے، وزیر اطلاعات

Calender Icon ہفتہ 3 اکتوبر 2026

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا ء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مذاکرات اچھی چیز ہیں، موجودہ ملکی حالات کے اندر معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔

عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور معاملات بات چیت کے ذریعے ہی حل ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر مسائل حل نہیں ہوتے، ملک کو سیاسی کشیدگی کے بجائے عملی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔

ہم نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مذاکرات اچھی چیز ہیں اور حکومت اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے عمل میں ہے تاہم خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو گورننس اور امن و امان کی صورتحال بہتر کرنا ہوگی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرکے عوام کی زندگی محفوظ بنانا ہوگی، ان کے بقول دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر منصوبہ بنانا اور اسے مؤثر انداز میں نافذ کرنا چاہیے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’’یہ سیاست کا وقت نہیں، کوہاٹ اور بنوں میں لاشیں گر رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل احتجاج اور سڑکوں پر نکلنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ایک روزہ لانگ مارچ سے 120 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ ان کے مطابق دھرنوں اور احتجاج سے معیشت پر بوجھ پڑتا ہے اور پاکستانی معیشت روزانہ 120 ارب روپے کے نقصان کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی حکومت کو مشورہ دیا کہ صوبے میں کاروباری سرگرمیوں اور معیشت کی بہتری کے لیے کام کیا جائے، عطا تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت خود بھی کام کرے اور وفاقی حکومت کو بھی کام کرنے دیا جائے۔

لانگ مارچ کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ محض دھرنے کے اعلان سے کچھ نہیں ہوگا، اگر لانگ مارچ نکلا تو حکومت اسے روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 4 اکتوبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کے اعلان کے تناظر میں شروع ہوا ہے۔ پہلے دور کے مذاکرات 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہوئے، تاہم فریقین کسی حتمی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے اور اگلے روز دوبارہ مذاکرات پر اتفاق کیا گیا۔

دوسرے دور کے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ، تازہ صورتحال میں حکومت احتجاج روکنے پر زور دے رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے ساتھ اپنی 4 اکتوبر کی احتجاجی کال برقرار رکھی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں:ایران کے پاس ایسی قیادت نہیں جس سے مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کا اگلا مرحلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ فریقین سیاسی کشیدگی کم کرنے اور 4 اکتوبر کے احتجاج کے حوالے سے کسی قابلِ عمل اتفاقِ رائے تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔