وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری(Talal Chaudhry) نے کہا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پراکسیز پر سرمایہ کاری بڑھائی گئی، مغربی سرحد پر موجود پراکسیز کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی، سیاسی لوگوں، گروپس یا جماعتوں تک پراکسیز کی رسائی ہو تو اس پر سوال اٹھانا پڑے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں طلال چودھری نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سیاسی عناصر پراکسیز کو استعمال کر رہے ہیں یا پراکسیز سیاسی لوگوں کو استعمال کر رہی ہیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے بھی کئی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے خفیہ اطلاعات پر ہونے والے آپریشن کے حوالے سے حقائق عوام کے سامنے رکھے تھے، مزید انٹیلیجنس بیسڈ حقائق بھی عوام کے سامنے رکھوں گا۔ پی ٹی آئی سے طویل مذاکرات ناکام کیوں ہوئے، وزیر داخلہ جلد اس کے حقائق اور پس منظر سے آگاہ کریں گے۔
طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی اور کشمیر احتجاج کی تاریخ ایک ہی رکھنا اور کئی چیزوں کا مشترک ہونا بھی قابل غور ہے۔ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ اور کشمیر احتجاج کے لیے ایک ہی دن کا انتخاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں احتجاجی کال کو عوام نے مسترد کردیا، کشمیریوں نے انتخابات میں شرکت کرکے پی ٹی آئی کی کال مسترد کردی اور اپنے فیصلے کا حق کسی اور کو دینے کی کوشش ناکام بنا دی۔ کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کے حالات سے جوڑنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ کشمیری عوام نے تینوں مراحل میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے اپنا فیصلہ سنایا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ انتخابات روکنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد احتجاج کے ذریعے نتائج کو اوور شیڈو کرنے کی کوشش کی گئی۔ میرپور میں بڑی تعداد میں کشمیریوں نے ووٹ ڈالے، اسی روز پرتشدد احتجاج شروع ہوا۔ سوا سو دن تک احتجاجی کیمپ کو سیکیورٹی فراہم کی گئی اور طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے اس وقت تک طاقت استعمال نہیں کی جب تک ان پر حملہ نہیں کیا گیا۔ احتجاجی واقعات میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں، اسنائپر رائفل اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کے شواہد موجود ہیں۔
مزیدپڑھیں:حکومت اور اپوزیشن مذاکرات جاری رکھیں، اختلافات کا حل بات چیت سے ممکن ہے: اسلم غوری
طلال چودھری نے کہا کہ غیر قانونی اسلحہ کاروبار میں ملوث شخص کی گرفتاری اہم پیشرفت ہے جو گزشتہ 8 سال سے غیر قانونی اسلحے کا کاروبار کر رہا تھا۔ افغانستان سے اسلحہ حاصل کرکے پاکستان کے قبائلی علاقوں تک پہنچایا گیا اور پھر کشمیر منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازم نے اسلحہ کشمیر پہنچانے کے لیے مبینہ طور پر سہولت کاری کی۔ پریس کانفرنس کے بعد مزید تحقیقات میں 3 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن کی گرفتاریاں اسلحہ کیس کی مزید تحقیقات کے بعد عمل میں آئیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ گرفتار شخص کو ذہنی مریض قرار دینے اور میڈیکلی ان فٹ ثابت کرکے الزام سے بچنے کی کوشش کی گئی۔ مختلف ڈاکٹرز سے رابطہ کرکے پرانی تاریخوں کے میڈیکل سرٹیفکیٹس بنوانے کی کوشش کی گئی، سرٹیفکیٹس نہ بن سکے تو گرفتار شخص کے اہلخانہ پر دباؤ ڈالا گیا۔
ان کے مطابق گرفتار شخص کے اہلخانہ اور قریبی عزیزوں سے میڈیا پر آنے اور اسے ذہنی طور پر ان فٹ قرار دینے کی ویڈیوز جاری کرانے کی کوشش ہوئی، تاکہ گرفتار شخص کو ذہنی طور پر ان فٹ ثابت کرکے معاملے سے توجہ ہٹائی جاسکے۔
طلال چودھری نے کہا کہ گرفتار درمیانی شخص گزشتہ 8 سال سے کشمیر میں اسلحہ فراہم کر رہا تھا۔ اس کی گرفتاری کے بعد مزید افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی گئی اور اسلحہ سپلائی کا نیٹ ورک جاری رکھنے کے لیے مزید افراد سے رابطے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاجی واقعات میں مزید 3 افراد وقار حمید، محمد علی اور عمار سہیل گرفتار ہوئے۔ گرفتار تینوں افراد کے روابط جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اہم افراد سے ملتے ہیں۔
طلال چودھری نے کہا کہ کے پی حکومت اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے سیاست کر رہی ہے اور سیاسی فائدے کے لیے بدامنی کو استعمال کر رہی ہے۔













اتوار 4 اکتوبر 2026 

