اسلام آباد و راولپنڈی میں وی آئی پی موومنٹس: آج کون سی سڑکیں بند ہوں گی؟

Calender Icon جمعرات 8 اکتوبر 2026

وفاقی دارالحکومت(Islmabad) اور راولپنڈی میں آج وی آئی پی نقل و حرکت، تاجروں کے متوقع احتجاج اور کرکٹ ٹیم کی آمدورفت کے باعث بعض علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا امکان ہے، جبکہ میٹرو بس سروس کے چند اوقات میں محدود آپریشن کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور بحرین کے وزیر خارجہ آج اسلام آباد سے روانہ ہوں گے۔ ان کی نقل و حرکت کے دوران ریڈ زون، ایکسپریس وے اور پرانے ایئرپورٹ کے اطراف ٹریفک کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران نے آج سہ پہر تین بجے سے پانچ بجے کے درمیان آبپارہ چوک میں احتجاج اور ممکنہ شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ احتجاج کے باعث آبپارہ اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

اُدھر کرکٹ ٹیم کی پریکٹس سیشن کے لیے اسٹیڈیم آمدورفت بھی آج ٹریفک پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ٹیم کے تقریباً 4:15 بجے اسٹیڈیم روانہ ہونے اور 8:35 بجے ہوٹل واپس پہنچنے کی توقع ہے۔

میٹرو بس انتظامیہ کے مطابق سروس بعض اوقات میں جزوی طور پر بند رہے گی۔ میٹرو اسٹیشنز پر تین بجے سے 4:40 بجے اور 7:55 بجے سے نو بجے تک عارضی پابندیاں متوقع ہیں، جبکہ میچوں کے دوران 6th روڈ، شمس آباد اور فیض آباد اسٹیشنز پر میٹرو نہیں رکے گی۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی فورسزکی خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں، 4 اہم کمانڈرزسمیت 9 خارجی ہلاک

حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت اسلام آباد اور راولپنڈی کے اندر تمام مرکزی سڑکیں اور موٹرویز کھلی ہیں اور کسی شاہراہ کی مکمل بندش کی اطلاع نہیں۔

دریں اثنا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے شہریوں نے موبائل فون اور ڈیٹا سروسز میں تعطل کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

اسلام آباد کے ریڈ زون کے متعدد داخلی و خارجی راستے بند، شہریوں کو ٹریفک میں تاخیر کا سامنا

وفاقی دارالحکومت کے حساس علاقے ریڈ زون میں سکیورٹی اقدامات کے باعث بُدھ کی صبح متعدد داخلی اور خارجی راستے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کو ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور سفر میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹریفک حکام کے مطابق صبح آٹھ بج کر 39 منٹ تک سیرینا گیٹ، نادرا گیٹ، ایکسپریس گیٹ (ڈی چوک) اور پریڈ ایونیو پر ٹی کراس باری امام کے راستے آمدورفت کے لیے بند تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان راستوں کی بندش کے باعث ریڈ زون کی جانب جانے والی ٹریفک کا دباؤ متبادل راستوں پر منتقل ہو رہا ہے، جس سے ملحقہ سڑکوں پر بھی رش اور سست روی کا خدشہ ہے۔

تاہم مارگلہ گیٹ اور میریٹ گیٹ کو آمدورفت کے لیے کھلا رکھا گیا ہے اور شہریوں کو انہی راستوں کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق سکیورٹی انتظامات کے تحت ریڈ زون کے اطراف عارضی سفری پابندیاں برقرار رہ سکتی ہیں، جبکہ متاثرہ اور آس پاس کی شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ میں اضافے کے باعث تاخیر متوقع ہے۔