امریکا میں فورٹ ہڈ حملے کے مجرم کی سزائے موت براہِراست نشر کرنے کا فیصلہ

Calender Icon جمعہ 9 اکتوبر 2026

امریکا نے 2009 میں ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک کرنے والے سابق فوجی نفسیاتی معالج نڈال ملک حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ایک اہلکار نےنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نڈال حسن کو 3 دسمبر 2026 کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور اس عمل کو براہِ راست نشر کیا جائے گا۔

اس سے قبل پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے 6 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے نڈال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی سفارش کی جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کرلیا ہے۔

قائم مقام سیکریٹری فوج ایڈم ٹیلے کے مطابق سزائے موت جمعرات 3 دسمبر2026 کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے فورٹ ہڈ، ٹیکساس میں دی جائے گی۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے اس سے قبل ایک پوڈکاسٹ میں کہا تھا کہ وہ نڈال حسن کی سزائے موت کو عوام کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق فورٹ ہڈ میں جمعرات کو دوپہر ایک بجے سزائے موت دینے کا فیصلہ واضح تھا کیونکہ حملہ بھی اسی مقام اور تقریباً اسی وقت ہوا تھا۔

خیال رہے نڈال حسن کو اگست 2013 میں فوجی جیوری نے 45 الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ ان میں منصوبہ بندی کے تحت قتل اور قتل کی منصوبہ بندی کی کوشش کے الزامات شامل تھے۔

استغاثہ کے مطابق حسن نے فورٹ ہڈ کے وسیع فوجی اڈے میں واقع ایک طبی مرکز میں لیزر سے نشانہ لگانے کی سہولت والی پستول سے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔

واقعے کے وقت حسن کی عمر 39 سال تھی اور انہیں چند ہفتوں بعد افغانستان تعینات کیا جانا تھا۔ گرفتاری کے دوران پولیس کی فائرنگ سے وہ جزوی طور پر مفلوج ہوگئے تھے اور وہیل چیئر تک محدود ہوگئے تھے۔

امریکی فوج میں فائرنگ اسکواڈ سے آخری سزا کب دی گئی؟
نڈال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا معاملہ امریکی فوج کی تاریخ میں غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے۔

امریکی فوج نے آخری مرتبہ 1945 میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی تھی۔ تاہم سزائے موت کی مخالفت کرنے والے ادارے ڈیتھ پینلٹی ایکشن کے مطابق حسن کی سزائے موت 1961 کے بعد امریکی فوج کی جانب سے پہلی پھانسی ہوگی۔ 1961 میں سزائے موت پھانسی پر لٹکا کر دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:ہانگ کانگ سکسز: دفاعی چیمپئن پاکستان نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق امریکا کی کم از کم پانچ ریاستوں میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا قانونی طریقہ موجود ہے۔ سن 2025 میں جنوبی کیرولائنا میں 15 سال کے وقفے کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی گئی تھی۔