حکومتی اراکین کا مؤقف تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ واحد راستہ تھا، اپوزیشن کا اختلاف، فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا جس کے بعد اس اقدام کی دونوں ایوانوں سے باقاعدہ توثیق ہو گئی ہے۔
ایوان زیریں و ایوان بالا میں یہ قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر کو 45 منٹ تاخیر سے شروع ہوا تھا۔
اسیپیکر کی جانب سے آئٹم نمبر 5 پیش کرنے پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ “میں یہ قرارد پیش کرتا ہوں کہ یہ کہ قومی اسمبلی، صدرِ مملکت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا میں نافذ کردہ ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کی منظوری دیتی ہے۔”
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے اس فیصلے کی وجہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا۔
قرار داد پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر نے پوچھا کہ اس پر بحث کا آغاز کون کرے گا، بیرسٹر گوہر یا اپوزیشن لیڈر؟ اس پر تجویز سامنے آئی کہ حکومتی رہنما آغاز کریں جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مائیک سنھبالا۔
اس سے قبل ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے سے متعلق تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سے اپوزیشن کو قرارداد پر بات کرنے کا موقع مل سکے گا۔
گورنر راج واپس لیں، اچکزئی کی اپیل
ایمرجنسی کے نفاذ پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے حکومت پر طاقت کے زور زور سے اقتدار قائم رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرزِ عمل سے ملک تباہی کی طرف جائے گا۔
انہوں نے اگلا گورنر راج اور پانیوں کا معاملہ سندھ میں سامنے آنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ ‘ابھی بھی وقت ہے، یہ اقدامات واپس لیں۔۔۔۔خدا کا واسطہ لوگوں کو تنگ مت کریں۔ یہ رویہ بربادی کا ہے، آئیں بسم اللہ کریں۔’
محمود اچکزئی نے معزول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کی مذمت کی اور ملکی سیاست اور حکومت میں اسٹیبلمشنٹ کے کردار پر بھی سوال اٹھائے۔
اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکمی کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ ہمیں ہمارے لیڈر سے ملنے دو اور اسی بات پر ‘بات اٹک گئی’۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کرنے کی اجازت دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “کسی سے ملاقات نہ کرانا بہت بڑا مجرمانہ فعل ہے ۔”
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق قرارداد پر محمود اچکزئی کے مؤقف کی تائید کی۔
انہوں نے 11 اکتوبر 2026 کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپوزیشن کے تمام اراکین خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہیں، اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور اسے کسی صورت منظور نہیں کرتے۔
قرارداد پر بحث کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو ‘آئینی ایٹم بم’ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اقدامات مستقل حل نہیں ہو سکتے لہذا حکومت اور اپوزیشن کو آج بھی بات چیت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔ تاہم ان کا ماننا تھا کہ صرف ہنگامی انتظامات کے ذریعے دہشت گردی کا مؤثر اور دیرپا خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے اور مربوط حکمت عملی درکار ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اقدامات آئین کے تحت کیے گئے فیصلے ہیں اور ان سے قبل اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعے ساتھ ملانے کی پوری کوشش کی تاکہ اس اقدام کی نوبت نہ آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی ذمہ دار قیادت بھی اس بات کو تسلیم کرے گی کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے طرزِ عمل سے اپنی صوبائی حکومت کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کیں۔ “اپوزیشن جانتی ہے کہ پی ٹی آئی نے خود سیاسی خود کش حملہ کیا ہے۔”
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت کا مؤقف تھا کہ ایمرجنسی جیسا ‘آئینی ایٹم بم’ گرانے سے پہلے پی ٹی آئی اور اپوزیشن سے بات چیت کی جائے اور وفاقی حکومت کے ان تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی۔
انہوں نے ملک میں سیاسی گھٹن کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش تنگ کی جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف اسی جماعت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں، کارکنوں اور عام شہریوں کی سیاسی آزادیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کی ذمہ داری سیاست دانوں اور دیگر سیاسی قوتوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور کسی کو اپنی ذمہ داری سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔
بلاول نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سنگین صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ کشیدہ حالات بھی چیلنجز میں اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مبینہ سیاسی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر صوبے کی قیادت دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کی کوششوں میں تعاون سے انکار کرے تو کیا یہ سیاسی خودکشی کے مترادف نہیں ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کے لیے اس جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت اور وفاقی حکومت کے پاس بھی ایسے حالات میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی مخالفت کرنے کی کوئی آئینی، قانونی یا سیاسی وجہ موجود نہیں تھی۔
سابق وزیر خارجہ نے وفاقی حکومت اور اپوزیشن سے ایک بار پھر مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، اپوزیشن قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کو مسائل کے حل، مفاہمت اور درمیانی راستہ نکالنے کے لیے بات چیت کا موقع دینا چاہیے۔
اس کے علاوہ انہوں نے زور دیا کہ اگر پاکستان کو خیبر سے خضدار تک دہشت گردی سے پاک کرنا ہے تو اس کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، پولیس یا فوج کی ذمہ داری نہیں، بلکہ معاشرے کے تمام طبقات اور ریاستی اداروں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے ماضی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی قومی اتحاد کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کر چکا ہے، اور اسی جذبے کے ساتھ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسمبلی میں جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی ٹی آئی اور ان کی وفاقی اور صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ “جب آپ حکمران تھے، آپ کیا کر رہے تھے، آپ نے اِس ایوان اور وزیراعظم ہائوس میں آنے کے لئے ہیلی کاپٹر کو رکشہ بنایا ہوا تھا، اُس ہیلی کاپٹر کے ایک چکر پر 13 لاکھ روپے لگتا تھا۔”
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں تقریباً 13 سال سے حکومت میں رہی ہے۔ “آپ نے ایک صوبے کا ‘تیا پانچا’ کر دیا۔”انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اپنے ماضی کو بھی سامنے رکھیں اور سیاسی معاملات پر تنقید کرتے ہوئے سابقہ رویوں کو نظرانداز نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے افراد بھی ماضی میں قید رہے، لیکن ان کی رہائی کو اس انداز میں سیاسی مسئلہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کیے گئے۔ “ہم نے ڈی چوک میں آکر قبریں نہیں بنائیں۔ہم نے ایوان میں آ کر ماتم نہیں کیا۔ہم نے قانون نافز کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو شہید نہیں کیا۔”
خواجہ آصف نے اپنے دورِ اسیری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ایک موقع پر قومی اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے لیے جیل سے لایا گیا تھا، لیکن ووٹنگ کے بعد رات ایوان میں گزارنے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ ان کے مطابق اس وقت کے اسپیکر اسد قیصر نے کہا تھا کہ وہ عمران خان کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جیل میں اپنے لیے کمبل اور کھانا بھجوانے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سیاسی قیدیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن سیاسی اختلافات کے باوجود ماضی کی حقیقتوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
پی ٹی آئی دور حکومت میں لیگی رہنماؤں کی مشکلات کا تفصیلاً ذکر کر کہ خواجہ آصف نے ان کے ساتھ غیر متعصبانہ رویہ رکھے جانے کے حق پر سوال اٹھایا۔ “آپ ایکوٹی ڈیمانڈ تب کرتے ہیں جب کہ یو ہیو کلین ہینڈز۔یو ڈو ناٹ ہیو کلین ہینڈز۔یو کین ناٹ ڈیمانڈ ایکوٹی۔ (آپ غیر متعصبانہ رویے کا مطالبہ تب کرتے ہو جب آپ کے ہاتھ صاف ہوں، آپ کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں، آپ ایسے سلوک کا مطالبہ نہیں کر سکتے یہ ہزاروں سال پرانا اصول ہے۔”
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنے مؤقف میں مستقل مزاجی دکھانی چاہیے۔ ان کے بقول، جب سیاسی رہنماؤں کے قول و فعل میں تضاد رہے گا تو ملک کے حالات بہتر نہیں ہو سکیں گے۔
وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں سابق فوجی قیادت اور پی ٹی آئی کے تعلقات کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ماضی میں عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوجی حکومت کی تعریف کی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ حالات پر مؤقف اختیار کرتے وقت اپنے سابقہ بیانات اور فیصلوں کو بھی یاد رکھے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے پہلے پوچھا کہ پی ٹی آئی کا حریف کون ہے اور اس کے اتحادی کون ہیں، پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا “حریف پاکستان کی ریاست ہے اور حلیف جو ہے وہ طالبان ہیں جن کے ہاتھ ہمارے بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر لڑنا ہوگا۔ ‘یہ نہیں ہوگا کہ ایک صوبہ جو سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہا ہے، ایک تو طالبان نقصان پہنچا رہے تھے اس کے بعد حکمران نقصان پہنچا رہے تھے۔”
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ حکومت کا آخری راستہ تھا، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کو متحد ہو کر لڑنا ہوگی۔
قومی اسمبلی میں خطاب میں خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مذاکرات میں تقریباً تمام معاملات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن بالآخر بات چیت ناکام ہو گئی۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ نے بھی سینیٹ میں مذاکرات کے دوران حکومتی لچک اور بات چیت کی ناکامی کی وجوہات بیان کی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں حکومت کے پاس ایمرجنسی لگانے کے علاوہ ‘کوئی چوائس نہیں رہی تھی’۔ “اٹ واز اے چوائس اف لاسٹ ریزورٹ وچ ہیڈ ٹو بی اڈاپٹڈ (یہ وہ آخری راستہ تھا جو اختیار کیا جانا ہی تھا)۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن ان کے بقول صوبائی قیادت اپنی سیاسی ترجیحات میں زیادہ مصروف رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تین سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 2,700 افراد جان سے گئے، جبکہ 14 ماہ میں 3,900 ہلاکتیں ہوئیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور اب صوبے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
دہشتگردی کے سدباب کے لیے ایمرجنسی لگائی، وزیر قانون
قرار داد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواز دیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ صوبے میں جاری امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2021 سے 2024 کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے واقعات 2 ہزار 911 تھے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد بڑھ کر 3 ہزار 787 ہوگئی۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال اور سرحد پار سے دراندازی نے ہی حکومت کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایمرجنسی کے نفاذ کے صدارتی اعلان پر پہلے بھی سیر حاصل گفتگو کر چکے ہیں۔ یہ اس ایوان کا استحقاق ہے اور آئینی تقاضا بھی کہ صدارتی اعلان کے بعد 10 روز کے اندر اسے دونوں ایوانوں میں پیش کر کہ منظوری لی جائے۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں صدارتی اعلان پر بحث جاری ہے جبکہ سینیٹ کا اجلاس آج شام 4 بجے ہوگا اور وہاں بھی آئینی ریکوائرمنٹ کے تحت اس پر بحث ہو گی۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 15 اکتوبر کو صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا جس میں ممکنہ طور پر آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی توثیق ہوگی۔
وزیر قانون نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبے کا متحد ہونا ناگزیر ہے اور سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ پوری قوم یکجا ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کرے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی، تاہم مذاکرات کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے بجائے قید سیاسی قیادت سے ملاقاتوں اور سہولتوں کے مطالبات کو ترجیح دی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ زیرِ حراست افراد کی رہائی اور عدالتی کارروائیوں سے متعلق معاملات بنیادی طور پر عدالتوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ صدرِ مملکت کو آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت رحم کی اپیل پر معافی دینے کا اختیار حاصل ہے۔
انہوں نے ماضی کے سیاسی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاست کا بنیادی تقاضا مکالمہ، مفاہمت اور ماضی سے سبق سیکھنا ہے۔
علی محمد کا دہشتگردی کے معاملے پر ‘وکٹم بلیمنگ’ کا الزام
ایمرجنسی کے نفاذ پر حکومتی اراکین کی جانب سے پیش کی گئی توجہیات کے جواب میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی علی محمد خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کا نشانہ بھی بن رہے ہیں اور انہیں ہی اس کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جا رہا ہے۔ “آپ نے دہشتگردی کا صرف سنا ہے جبکہ ہم نے اسے جھیلا ہے۔۔۔بچے بھی ہمارے مر رہے ہیں۔۔۔۔دہشتگردی کا نشانہ بھی ہم بن رہے ہیں اور الزام بھی ہم پر”۔
انہوں نے پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے جوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “میں نے پاک بھارت جنگ میں جوان ایاز شہید کا جنازہ اپنے کندھے پر اٹھایا، میرے وزیر اعلیٰ نے ایاز شہید کے نام پر کیڈٹ کالج بنانے کا اعلان کیا اور جو وزیر اعلیٰ شہید کے نام پر کیڈٹ کالج بنا رہا ہے اس آپ دہشتگرد کہتے ہیں۔”
پی ٹی آئی رہنما نے سیاسی نظام اور وفاق میں اتحادی پارٹیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کا 2 پارٹی سسٹم تھا”، جس میں کسی تیسرے شخص کے وزیراعظم بننے کا ‘کوئی نظریہ’ نہیں تھا۔
انہوں نے کروڑوں لوگوں کے حکمران جماعتوں کے خلاف ووٹ دینے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں حالات بدلتے رہتے ہیں، ” کیا پتہ کل ہم اس سیٹ پر ہوں اور آپ ہماری سیٹ پر ہوں۔”
انہوں نے سوال کیا کہ سابق وزیراعظم کو ‘آپ کے صوبے میں’ گولی کیوں ماری گئی۔ “محترمہ بینظیر کو شہید کیا گیا۔۔۔سوچتا ہوں ان کے بچوں پر کیا گزری ہو گی۔” انہوں نے بلاول بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری سے اپیل کی کہ وہ خیبرپختونخوا کو ایک ماں کے ان بچوں کی نظر سے دیکھیں جو دہشت گردی میں اپنے پیاروں کو کھو رہے ہیں۔
علی محمد خان نے کہا کہ پختونوں نے ووٹ کی طاقت سے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور سیاسی رہنماؤں نے ووٹ اور جرگے کی طاقت سے پاکستان بنایا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ووٹ کی اہمیت کیوں ختم کی جا رہی ہے اور صوبے سے اس کا حق کیوں چھینا جا رہا ہے۔
انہوں نے سیاسی کشیدگی ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ ‘صلح حدیبیہ’ اور قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت کا کوئی بھروسا نہیں، اس لیے سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں “سب سے پہلے عمران خان کے خلاف کیسز ختم” کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب عمران خان یہ کہہ چکے ہیں کہ ‘ملک بھی میرا فوج بھی میری تو بات ختم ہو گئی’۔
بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی اپیل کرتے ہوئے علی محمد نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کی بات سنی پڑے گی اور بغیر بات سنے کوئی ‘پالیسی’ نہیں بنے گی۔
اپوزیشن کے احتجاج کے دوران بھی جاری رہنے والا آج کا اجلاس بروز جمعہ دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔اس دوران اپوزیشن اراکین کو اظہار خیال کا موقع تو دیا گیا تاہم ان کی تقاریر براہ راست نشر نہیں کی گئیں۔
مزید پڑھیں:امریکا: 8 ریاستوں کا اوپن اے آئی کیخلاف مقدمہ دائر
اجلاس سے قبل اسپیکر کی صدارت میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلیم لیگ (ن) اور دیگر اتحادی جماعتوں کے اراکین کے درمیان مشاورتی میٹنگ ہوئی تھی جس میں ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق لائحہ عمل پہلے ہی طے کر لیا گیا تھا۔













جمعرات 15 اکتوبر 2026 

