اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق آئی جی موٹروے ذوالفقار احمد چیمہ کی حال ہی میں شائع ہونے والی خود نوشت ’’جہدِ مسلسل‘‘ ریاستی نظام، سیاست دانوں کے کردار اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں حائل رکاوٹوں پر ایک تفصیلی اور چشم کشا دستاویز بن کر سامنے آئی ہے۔ کتاب میں مصنف نے اپنے طویل سرکاری کیریئر کے دوران پیش آنے والے ایسے واقعات قلم بند کیے ہیں جو عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آتے۔
ذوالفقار احمد چیمہ کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ارکانِ اسمبلی رہے ہیں، جو پارلیمنٹ کو تو بااختیار نہ بنا سکے مگر اپنے اپنے حلقوں میں ایس پی اور ڈی سی کے اختیارات عملاً خود استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی طرزِ عمل انتظامی نظام کو کمزور کرتا رہا۔
کتاب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے ساتھ قریبی تعلقات کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ذوالفقار چیمہ اولڈ راوین ہونے کے ناتے اولڈ راونیز ایسوسی ایشن کے ذریعے جسٹس نسیم حسن شاہ کے قریب آئے، جس کے نتیجے میں انہیں کئی اہم تاریخی واقعات کا براہِ راست علم ہوا۔ ان کے مطابق جسٹس نسیم حسن شاہ 1993 میں نواز شریف کی حکومت کی بحالی کا کریڈٹ لیتے رہے اور اس مقصد کے لیے جنرل وحید کاکڑ سے فون پر رابطہ کیا گیا، تاہم جنرل کاکڑ نے مداخلت سے انکار کیا۔
ذوالفقار چیمہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب وہ وزیر اعظم نواز شریف کے پرسنل اسٹاف آفیسر تھے تو سینیٹر سیف الرحمان کو احتساب بیورو کا سربراہ بنایا گیا۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر کرپٹ افسران کی فہرستیں تیار کی گئیں، مگر سیف الرحمان نے ان فہرستوں کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی کی فہرست کے مطابق کارروائیاں شروع کر دیں۔ چیمہ کے مطابق وہ وزیر اعظم کی مختلف ججوں سے ملاقاتیں بھی کراتے رہے، جن میں احتساب اور انصاف کی اہمیت پر گفتگو ہوتی تھی۔ ایک ملاقات میں وزیر اعظم نے جسٹس عبدالحفیظ چیمہ سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا کوئی ایسا راستہ ہے جس سے اہم فیصلوں کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری نہ رہے، جس پر جج نے دو ٹوک جواب دیا کہ آئین اور پارلیمنٹ کو بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔
کتاب میں کراچی میں شہید ہونے والے دو پولیس افسران کا واقعہ بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ذوالفقار چیمہ کے مطابق انہوں نے وزیر اعظم کو شہید افسران کے گھروں پر تعزیت کے لیے جانے پر آمادہ کیا، تاہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے دباؤ پر یہ دورہ رکوا دیا گیا۔ بعد ازاں گورنر ہاؤس میں شہید افسران کے اہل خانہ کی وزیر اعظم سے ملاقات کرائی گئی، جہاں ایک شہید ڈی ایس پی کی بیوہ اور ایک شہید انسپکٹر کی بیٹی نے اپنے دکھ بیان کیے۔ اس موقع پر وزیر اعظم آبدیدہ ہو گئے اور آئی جی کو طلب کیا، جس نے اعتراف کیا کہ قتل ایم کیو ایم کے عسکری ونگ نے کیے۔ تاہم اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی نے رپورٹ دینے کا وعدہ کر کے معاملہ دبا دیا۔
ذوالفقار چیمہ نے راولپنڈی میں بطور ایس پی تعیناتی کے دوران جوئے کے اڈوں کے خلاف کارروائیوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق شہر میں جوئے کے اڈوں کی سرپرستی ایک معروف رکنِ قومی اسمبلی شیخ رشید احمد کر رہے تھے۔ چھاپوں کے آغاز پر سیاسی دباؤ بڑھا اور بالآخر ایک ایم این اے کی شکایت پر انہیں ٹرانسفر کر دیا گیا، حالانکہ کمشنر راولپنڈی نے ان کی حمایت کی تھی۔
کتاب میں معروف شاعر حبیب جالب کی وفات کے بعد کا ایک واقعہ بھی شامل ہے، جب ذوالفقار چیمہ وزیر اعظم کو تعزیت کے لیے ان کے گھر لے گئے۔ حبیب جالب کی اہلیہ نے کسی مالی مدد یا پلاٹ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے آ کر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اپنی عزت میں اضافہ کیا ہے۔ یہ بات وزیر اعظم کو ناگوار گزری اور واپسی پر ذوالفقار چیمہ کو ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے میں خاصی محنت کرنا پڑی۔
’’جہدِ مسلسل‘‘ محض ایک سرکاری افسر کی خود نوشت نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی و انتظامی نظام کے اندرونی تضادات، طاقت کے مراکز اور انصاف کے سفر کی ایک تفصیلی روداد ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اصل مسائل کہاں ہیں اور اصلاح کی راہ میں کون سی رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔












جمعرات 22 جنوری 2026 