اسلام آباد (نیوز ڈیسک)رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہاکہ توشہ خانہ ٹو کیس کے دوران وکلاء نے عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ ہار واپس کر دیا جائے۔ عمران خان کی رضامندی کے بعد وہ بنی گالا گئے جہاں بشریٰ بی بی نے بتایا کہ ہار ان کے پاس موجود نہیں بلکہ عمران خان کی ایک رشتہ دار کے پاس ہے۔ بعد ازاں انہیں معلوم ہوا کہ وہ ہار علیمہ خان نے دیکھنے کے بہانے لیا اور پھر اپنے پاس رکھ لیا۔ میزبان مشال یوسفزئی نے بھی تصدیق کی کہ وہ ہار بشریٰ بی بی کے پاس نہیں تھا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےشیر افضل مروت نےکہا کہ علیمہ خان کی ایما پر بشریٰ بی بی کے خلاف کردار کشی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان نے ایک ایسے صحافی کو بشریٰ بی بی کے خلاف انٹرویو دیا جو گارڈین اور الجزیرہ سے وابستہ ہے۔ مروت کے مطابق علیمہ خان سوشل میڈیا پر انہیں مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں اور ہر کسی کو “ایجنٹ” قرار دیتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے خود آرمی چیف سے رابطہ کر کے اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ بیرونِ ملک جا کر چندہ اکٹھا کر سکیں۔
سینیٹ ٹکٹ کے معاملے پر شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان کے حتمی فیصلے کے باوجود ان کے ٹکٹ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی اور بیرسٹر سیف کو اس فیصلے کا اعلان کرنے سے روک دیا گیا۔
گفتگو کے اختتام پر شیر افضل مروت نے سوال اٹھایا کہ ایک جانب عالیہ حمزہ اور صنم جاوید جیسی خواتین تاحال جیلوں میں ہیں جبکہ دوسری جانب علیمہ خان کے بیٹوں کو تین دن میں ضمانت مل گئی اور پنجاب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل بھی دائر نہیں کی۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر ہونے والے ان معاملات پر خاموش رہنا ممکن نہیں اور وہ یہ تمام حقائق بانی پی ٹی آئی کے سامنے رکھنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
@humnewspakistan جس "ہار" پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا ہوئی وہ علیمہ خان کے پاس ہے،شیر افضل مروت کا لائیوشو میں تہلکہ خیز انکشاف، مشال یوسفزئی نے بھی بتا دیا












جمعرات 5 فروری 2026 