پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت ملک کی پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون کا باقاعدہ آغاز

Calender Icon ہفتہ 7 فروری 2026

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر اہتمام ملک کی پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ تین روزہ یہ ہیکاتھون نیشنل سینٹر فار فزکس، اسلام آباد میں منعقد کی جا رہی ہے جس کا مقصد پاکستان میں کوانٹم ریسرچ اور جدید سائنسی تحقیق کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

یہ ہیکاتھون اقوام متحدہ اور یورپی تنظیم برائے نیوکلیئر تحقیق (سرن) کی بین الاقوامی معاونت سے منعقد کی جا رہی ہے، جسے پاکستان کے سائنسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور تھے۔

تقریب میں ممتاز جامعات کے وائس چانسلرز، سائنسی تحقیقی اداروں کے سربراہان، وفاقی وزارتوں کے نمائندگان اور پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء نے کوانٹم ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ ہیکاتھون میں شریک نوجوان پاکستان کے مستقبل کے سائنسی قائدین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوانٹم ٹیکنالوجی اب محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن چکی ہے، جو عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن قومی ترقی کے لیے انسانی وسائل پر بھرپور سرمایہ کاری کر رہا ہے اور کوانٹم ہیکاتھون کے ذریعے نوجوانوں کی نئی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتیں سامنے آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان قومی مسائل کے حل میں جدت اور اختراع کی قیادت کریں گے اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد بنے گا۔

چیئرمین پی اے ای سی نے نیلوپ، پیاس یونیورسٹی اور نیشنل سینٹر فار فزکس کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان اداروں کا کردار اس ہیکاتھون کے انعقاد میں نہایت قابلِ تحسین ہے۔

ماہرین کے مطابق، کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون نہ صرف پاکستان میں جدید تحقیق کے فروغ میں مدد دے گی بلکہ نوجوانوں کو عالمی سطح کی ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کا بھی ذریعہ بنے گی۔ شرکاء مختلف سائنسی مسائل پر کوانٹم ماڈلز اور الگورتھمز تیار کریں گے، جس سے مستقبل میں تحقیق اور صنعتی ترقی کے نئے دروازے کھلنے کی توقع ہے۔

تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید سائنسی اور تکنیکی میدانوں میں پاکستان کی پیش رفت جاری رہے گی اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری ملک کو عالمی سائنسی منظرنامے میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گی۔