اسلام آباد/مظفرآباد (نیوز ڈیسک)لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری عوام 9 فروری کو تحریکِ آزادی کشمیر کے رہنما محمد افضل گورو کا یومِ شہادت مناتے ہیں۔ اس موقع پر مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور بھارتی ریاست کے عدالتی عمل پر شدید سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ 9 فروری 2013 کو بھارت نے بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں محمد افضل گورو کو پھانسی دے دی تھی۔ کشمیری حلقوں کے مطابق افضل گورو کو جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے بغیر انہیں سزائے موت دی گئی، جسے انصاف کا قتل قرار دیا جاتا ہے۔
کشمیری رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ محمد افضل گورو مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں شامل تھے، تاہم بھارتی ریاست نے انسانی، مذہبی اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں جیل میں ہی دفن کر دیا، جو عالمی اصولِ انصاف کے منافی ہے۔
مختلف بیانات میں کہا گیا کہ بھارتی ناانصافی اور جبر نے کشمیری عوام کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے کہ حقِ خودارادیت ہی آزادی کا واحد راستہ ہے۔ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیا جائے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلانے میں کردار ادا کیا جائے۔












پیر 9 فروری 2026 