واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے معروف تعلیمی ادارے Johns Hopkins University میں منعقدہ ایشیا پالیسی اینڈ کیریئر راؤنڈ ٹیبلز سیریز سے خطاب کرتے ہوئے بدلتی عالمی صورتحال میں پاکستان کے کردار اور خارجہ پالیسی پر جامع اظہارِ خیال کیا۔
تقریب اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقد ہوئی جس کا موضوع “بدلتی دنیا میں پاکستان کی گلوبل انگیجمنٹ” تھا۔ سفیر پاکستان نے پاک امریکہ تعلقات، پاک بھارت حالیہ کشیدگی، افغانستان کی صورتحال، انسداد دہشت گردی، چین و امریکہ سے تعلقات، ایران اور مشرق وسطیٰ کے معاملات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان دہائیوں سے افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی اور عدم استحکام کا بوجھ اٹھا رہا ہے، اور حالیہ برسوں میں ان کارروائیوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے شواہد پاکستان کی نظر میں واضح ہیں۔ توقع تھی کہ افغانستان کی عبوری انتظامیہ دوحا معاہدے کی پاسداری کرے گی اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صبر کا مظاہرہ کیا ہے مگر پاکستانی عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ عالمی برادری کو افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
پاک امریکہ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے کہا کہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کے دو بڑے ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں اور انہیں کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اور نوجوان آبادی امریکہ کی ترقیاتی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاک بھارت تعلقات اور حالیہ تنازع پر انہوں نے کہا کہ فضا میں تیس ہزار فٹ سے زائد بلندی پر ہونے والی ٹیکنالوجی کی سطح کی کشیدگی نے خطے میں خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ اس تنازع سے بھارت کو سبق سیکھنا چاہیے۔ جوہری طاقت کے حامل ممالک کے درمیان جنگ نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر Donald Trump کی ذاتی دلچسپی نے کردار ادا کیا۔ سفیر نے واضح کیا کہ پاکستان عزت و وقار کے ساتھ امن پر یقین رکھتا ہے، اس کا ایجنڈا معاشی ترقی اور اقتصادی اصلاحات ہے، اور تمام تنازعات مذاکرات و سفارت کاری سے حل کرنا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان پر جارحیت مسلط کی گئی تو وہ دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
چین اور امریکہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ تعمیری اور متوازن تعلقات برقرار رکھنے پر کاربند ہے، اور یہ توازن قومی مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے معدنی وسائل کو ملکی اور عالمی بھلائی کے لیے بروئے کار لانا چاہتا ہے۔
بورڈ آف پیس کے حوالے سے سفیر پاکستان نے بتایا کہ یہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 کے تحت قائم کیا گیا تھا اور پاکستان بانی رکن کی حیثیت سے غزہ کے معاملے پر اس کے مینڈیٹ کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
ایران اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد، ملک میں موجود شیعہ آبادی اور خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں مقیم پاکستانیوں کے باعث خطے کی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان سفارت کاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے اور موجودہ کشیدگی میں مثبت پیش رفت کا خواہاں ہے۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نکلنا دہشت گردی سے متعلق مالی اور دیگر معاملات میں مؤثر اقدامات اور ذمہ دارانہ رویے کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں تیز کریں۔












ہفتہ 28 فروری 2026 