اعلیٰ رہنماؤں کی شہادت سے نظام کو ہلایا نہیں جا سکتا: ایرانی وزیر خارجہ

Calender Icon بدھ 18 مارچ 2026

تہران(نیوز ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اعلیٰ رہنماؤں کی شہادت سے نظام کو ہلایا نہیں جا سکتا، یہ ایک ایسا نظام ہے جو اداروں پر قائم ہے۔
الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کا سیاسی نظام مضبوط ہے، ایران میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی ادارے مستحکم ہیں، ایک فرد کی موجودگی یا غیر موجودگی اس مضبوط ڈھانچے کو متاثر نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ ہر شخص کا کردار اہم ہے، لیکن سیاسی نظام کی مضبوطی سب سے اہم ہے، خطے میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، امریکی جارحیت اور ایران کے ردعمل کے باعث خطے کے عوام متاثر ہوئے اسی لئے ایرانی صدر نے معذرت بھی کی،ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ وہ صرف اپنا دفاع کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اہم آبی گزرگاہ ہے، دشمنوں کو آبنائے ہرمز کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ جاری جنگ کے باعث کئی ممالک خود بھی آبنائے ہرمز کے استعمال سے گریز کر رہے ہیں، جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے لئے نئے ضوابط بنائیں گے۔

قبل ازیں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ دولت، مذہب یا نسل سے قطع نظر ہمارا دشمن ایک ہے، یورپی اور امریکی حکام کی ایک بڑی تعداد اس جنگ کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے، وہ مانتے ہیں کہ ایران پر جنگ غیر منصفانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کے مزید اراکین کو بھی اسی راستے پر چلنا چاہیے، عالمی اثرات کا سلسلہ ابھی شروع ہوا ہے اور یہ سب کو متاثر کرے گا۔