ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی بحری جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا پر امریکی حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے ملاحوں کی یاد میں ریلی نکالی گئی۔
ریلی کے دوران شہریوں نے احتجاجاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے پتلے نذرِ آتش کیے۔
اس موقع پر ایرانی بحری جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا پر امریکی حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے ملاحوں کے جنازے اسٹیج پر رکھے گئے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
Iranians in Tehran burned effigies of Israeli PM Netanyahu and US
President Trump….As crowds gathered to commemorate the victims of the US strike on the warship IRIS Dena. pic.twitter.com/nO5hF90QNt
— Earth Hippy 🌎🕊️💚 (@hippyygoat) March 19, 2026
واضح رہے کہ مذکورہ جنگی جہاز رواں ماہ کے اوائل میں سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک امریکی آبدوز کے حملے میں ڈوب گیا تھا۔
رواں ماہ کے آغاز میں 4 مارچ کو ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو سری لنکا کے جنوبی شہر گال کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں امریکی آبدوز نے تارپیڈو سے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں جہاز ڈوب گیا تھا، جس کے نتیجے میں درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے واشنگٹن میں اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو ٹارپیڈو سے تباہ کیا ہے۔
سری لنکن حکام کے مطابق حادثے کے بعد 80 سے زائد لاشیں سمندر سے نکالی گئیں جبکہ 30 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
یہ جہاز بھارتی شہر یشاکاپٹنم میں ہونے والی ایک بحری مشق میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر 14 سو سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔












جمعرات 19 مارچ 2026 