امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے تیل اور خارگ جزیرے پر قبضے کا عندیہ دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے مرکزی برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔
برطانوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سچ پوچھیں تو میری ترجیح یہ ہو گی کہ ایران کا تیل لے لیا جائے، لیکن امریکا میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ وہ بیوقوف ہیں۔
انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اس اقدام میں خارگ جزیرے پر قبضہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے ہم خارگ جزیرہ لے لیں، ممکن ہے نہ لیں، ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ ہمیں کچھ عرصہ وہاں رہنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے ایران میں ممکنہ فوجی کارروائی کا موازنہ رواں سال کے آغاز میں وینزویلا میں کی گئی کارروائیوں سے کیا، جہاں امریکا نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد تیل کی صنعت پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکا و اسارئیل کے ایران پر حملوں کے سبب یہ تنازع پہلے ہی خلیجی ممالک تک پھیل چکا ہے، جس کے سبب توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع ایران میں ممکنہ زمینی جنگ کے لیے تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت تقریباً 10 ہزار فوجی ایران بھیجے جا سکتے ہیں، گزشتہ ہفتے تقریباً ساڑھے 3 ہزار اہلکار، جن میں 22 سو میرینز شامل ہیں، ایران پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید دستے بھی روانہ کیے گئے ہیں۔
رجیم چینج کا دعویٰ
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران میں رجیم چینج کا دعویٰ دہرا دیا۔
انہوں نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کہا کہ سابق رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت کی حالیہ شہادتوں کے بعد ایران میں رجیم چینج ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اب ہم جن لوگوں سے معاملات طے کر رہے ہیں وہ بالکل مختلف ہیں، وہ بہت پیشہ ور ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق دعویٰ
امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یا تو شہید ہو چکے ہیں یا شدید زخمی ہیں، ہم نے ان کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔
تاہم تہران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی قیادت برقرار ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ ہیں، اگرچہ وہ عوامی منظر سے غائب ہیں۔












پیر 30 مارچ 2026 