نئی ایجادات، 6 جی ٹیکنالوجی پر کام تیز، چین کا خلائی صنعت کو وسعت دینے کا فیصلہ

Calender Icon اتوار 19 اپریل 2026

چین اپنی خلائی صنعت کو وسعت دینے کے لیے بیجنگ میں ایک مخصوص صنعتی مرکز تعمیر کررہا ہے جسے ‘سیٹلائٹ ٹاؤن’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مرکز مستقبل کی خلائی ٹیکنالوجی کا ہیڈ کوارٹر(headqurarter) ثابت ہوگا۔

یہ مرکز زمین پر ایک ایسا علاقہ ہوگا جہاں سیٹلائٹ بنانے والی کمپنیاں اور ماہرین مل کر کام کریں گے تاکہ چین کی خلائی معیشت کو مزید فروغ دیا جاسکے۔

چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت چین میں خلا میں بھیجے جانے والے 60 فیصد سے زائد مشن نجی یا تجارتی نوعیت کے ہیں اور بہت سی نئی کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔

اس سیٹلائٹ ٹاؤن کو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ایک ہی جگہ پر تمام سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ سیٹلائٹ تیار کرنے، ان کے پرزے بنانے اور انہیں کنٹرول کرنے کا عمل آسان ہوسکے۔

مزید پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات، جامعات میں کلاسز آن لائن، مڈٹرم امتحانات ملتوی

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ، خلا میں ڈیٹا پروسیسنگ اور 6 جی جیسی جدید ٹیکنالوجی پر کام تیز ہوجائے گا۔

یہ مرکز نہ صرف نئی ایجادات کے لیے بہترین جگہ ثابت ہوگا بلکہ یہاں بڑی مقدار میں سرمایہ کاری اور ماہرین کی دستیابی سے چین کی خلائی مارکیٹ کھربوں روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔