اے آئی کسی کی دشمن نہیں، یہ ایک ٹیکنالوجی ہے: علامہ طاہر القادری

Calender Icon ہفتہ 25 اپریل 2026

علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری (Allama Tahir-ul-Qadri) نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) بذاتِ خود کسی کی دشمن نہیں بلکہ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے، اصل فرق اس کے استعمال میں ہے کہ اسے مثبت مقصد کے لیے استعمال کیا جائے یا منفی انداز میں۔
وہ سکینڈینیویا کی سب سے بڑی جماعت اہلِ سنت ناروے کی مسجد کے دورے کے دوران نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ مسجد کے مختلف حصے بھی انہیں دکھائے گئے جن میں دینی لائبریری، میٹنگ روم اور انتظامی دفاتر شامل تھے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوان نسل کے لیے گھر صرف رہائش گاہ بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ اصل تربیت کا ماحول کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق والدین کا کردار کمزور ہونے سے بچوں کی فکری، اخلاقی اور دینی تربیت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گھر میں تربیت نہ ہو تو بچوں کی نشوونما تین سمتوں سے متاثر ہوتی ہے: اسکول، سوسائٹی اور سوشل میڈیا۔ ان تینوں میں مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہیں، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ گھروں کو دوبارہ تربیت گاہ بنائیں اور بچوں کو دین اور اخلاقیات سے جوڑیں۔
اے آئی اور ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے کہا کہ نہ سوشل میڈیا، نہ ٹی وی اور نہ ہی کوئی ٹیکنالوجی بذاتِ خود دوست یا دشمن ہوتی ہے۔ یہ سب استعمال کرنے والے کے رویے پر منحصر ہے کہ وہ اسے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے یا نقصان کے لیے۔
پاکستان کے دورے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی توجہ کینیڈا میں جاری تحقیقی کام پر ہے، جو ان کے مطابق ایک اہم علمی منصوبہ ہے اور اپنے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کی تکمیل کے بعد وہ ضرور پاکستان جائیں گے، کیونکہ پاکستان ان کا گھر ہے۔