واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو (Marco Rubio) اہم عالمی تنازعات، خصوصاً ایران سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران نمایاں طور پر منظرِ عام سے غائب دکھائی دے رہے ہیں، جس نے امریکی خارجہ پالیسی میں ان کے کردار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
برطانوی جریدے کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق سفارتی رابطوں کے لیے اپنے قریبی مشیروں اور خصوصی ایلچیوں کو آگے بڑھایا ہے، جبکہ روبیو ان اہم سفارتی سرگرمیوں میں شامل نظر نہیں آئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران سے مذاکرات کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سرگرم رہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد میں ایرانی حکام سے بات چیت میں شامل رہے۔ تاہم ان تمام اہم رابطوں میں وزیر خارجہ کی غیر موجودگی نے توجہ حاصل کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکو روبیو، جو ماضی میں سخت مؤقف کے حامل سمجھے جاتے تھے، اب ٹرمپ انتظامیہ کی “امریکا فرسٹ” پالیسی کے تحت نسبتاً پس منظر میں دکھائی دے رہے ہیں۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ایران جیسے پیچیدہ معاملے سے خود کو دور رکھ رہے ہیں تاکہ کسی ناکامی کی صورت میں سیاسی اثرات سے بچا جا سکے، خصوصاً اس تناظر میں کہ انہیں مستقبل میں صدارتی امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روبیو کے بیرونی دورے محدود ہیں اور ان کی توجہ زیادہ تر لاطینی امریکی خطے پر مرکوز ہے، جہاں وہ وینزویلا، کیوبا اور نکاراگوا سے متعلق امریکی پالیسی میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روبیو تمام اہم فیصلوں میں شامل ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق موجودہ انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کا مرکز روایتی اداروں کے بجائے صدر کے قریبی مشیروں اور خصوصی نمائندوں کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔












ہفتہ 25 اپریل 2026 