غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی بلدیاتی انتخابات (Palestinian local elections) کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے، جو غزہ میں تقریباً دو دہائیوں بعد پہلی انتخابی مشق قرار دی جا رہی ہے۔
غزہ کے وسطی علاقے دیر البلح میں ہفتے کی صبح پولنگ اسٹیشنز کھول دیے گئے، جہاں تقریباً 70 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام محدود پیمانے پر ایک “پائلٹ پروجیکٹ” کے طور پر کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ علاقہ نسبتاً کم تباہی کا شکار رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تقریباً 15 لاکھ ووٹرز بلدیاتی کونسلوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں، جو پانی، سڑکوں اور بنیادی شہری سہولیات سے متعلق امور دیکھتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق غزہ میں طویل عرصے تک سیاسی تعطل اور جنگی صورتحال کے باعث انتخابی عمل معطل رہا، جبکہ موجودہ ووٹنگ کو محدود اور علامتی نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے۔
مغربی کنارے میں سیاسی ماحول بھی پیچیدہ ہے، جہاں بیشتر امیدواروں کا تعلق تحریک فتح یا آزاد گروپوں سے ہے، جبکہ دیگر بڑی سیاسی جماعتیں اس عمل میں براہِ راست شریک نہیں ہو رہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب فلسطینی علاقوں میں سیاسی تقسیم، انتظامی مشکلات اور عوامی مایوسی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مقامی سطح پر حکمرانی کے ڈھانچے کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔












ہفتہ 25 اپریل 2026 