لندن: برطانیہ (United Kingdom) میں سیاہ فام اور نسلی اقلیتی کارکنوں کو کام کی جگہوں پر نسل پرستی، ہراسانی اور غیر منصفانہ رویے میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جسے ماہرین نے “انتہائی تشویشناک” قرار دیا ہے۔
ٹریڈ یونین کانگریس کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق گزشتہ چھ برسوں کے دوران دفاتر اور کام کی جگہوں پر کھلی نسل پرستی کے واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے، جس نے ملازمین کے تحفظ اور مساوات سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کو اکثر ان کی انگریزی بولنے کی صلاحیت پر غیر ضروری سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ نسل پرستانہ لطیفے، مذاق، دھمکیاں اور بعض اوقات خوف و ہراس جیسے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ رویے صرف انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہے بلکہ بعض اوقات یہ ایک مستقل مسئلہ بن چکے ہیں جو کام کے ماحول کو متاثر کر رہے ہیں۔
ٹریڈ یونین کانگریس کے جنرل سیکرٹری پال نوواک نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کے ساتھ اس کے رنگ، نسل یا پس منظر کی بنیاد پر امتیازی سلوک ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ میں سیاہ فام اور نسلی اقلیتی کارکن بڑھتی ہوئی نسل پرستی کا سامنا کر رہے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس مسئلے کے خاتمے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہ سروے 16 سال یا اس سے زائد عمر کے ایک ہزار سے زیادہ سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر نسلی اقلیتی ملازمین کی رائے پر مبنی تھا، جس میں مجموعی رجحان کو ایک سنگین سماجی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
برطانیہ: کام کی جگہوں پر نسل پرستی اور امتیازی سلوک میں تشویشناک اضافہ
ہفتہ 25 اپریل 2026












