ایران کا بڑا یوٹرن، افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے پر رضامندی

Calender Icon بدھ 6 مئی 2026

واشنگٹن: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق United States اور Iran کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور نئے ایٹمی معاہدے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) کے مسودے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ جس کے تحت جنگ بندی اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے یورینیئم افزودگی روکنے اور اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو اس کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔

امریکا کو آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے، جبکہ پس پردہ رابطے تیزی سے جاری ہیں۔

مجوزہ معاہدے میں جنگ کے خاتمے، 30 دن کے اندر باضابطہ مذاکرات، آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں کمی، اور ایٹمی پروگرام پر طویل المدتی پابندی جیسے نکات شامل ہیں۔

اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی پر غور کر رہا ہے۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر اختلافات کے باعث حتمی اتفاق رائے اب بھی ایک چیلنج ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی امن کیلئے پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا اور کر رہا ہے: وزیراعظم

اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا نے دوبارہ سخت اقدامات، بشمول بحری محاصرہ اور ممکنہ فوجی کارروائی، کا عندیہ بھی دیا ہے۔