پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے شہریوں کو جعلسازوں سے خبردار کرتے ہوئے ایک نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بعض عناصر ادارے کا نام استعمال کر کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ادارہ کبھی بھی صارفین سے فون کال، ایس ایم ایس یا ای میل کے ذریعے ذاتی معلومات طلب نہیں کرتا، اس لیے کسی بھی ایسے رابطے کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے جو ذاتی ڈیٹا مانگے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
ایڈوائزری میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ:
کسی بھی مشکوک کال، پیغام یا ای میل کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دی جائے
نامعلوم یا غیر مصدقہ لنکس پر ہرگز کلک نہ کیا جائے کیونکہ اس کے ذریعے ذاتی ڈیٹا چوری ہونے کا خطرہ ہوتا ہے
کسی بھی صورت میں اپنی حساس معلومات شیئر نہ کی جائیں
مزیدپڑھیں:بجلی صارفین سے 3 سال میں 1906 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصولیوں کا انکشاف
حساس معلومات کے تحفظ پر زور
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ صارفین اپنے پاس ورڈز، پن کوڈز، شناختی کارڈ نمبرز اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کسی بھی غیر متعلقہ شخص یا ادارے کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
تصدیق کی اہمیت
اتھارٹی کے مطابق ہر پیغام، کال یا ای میل بھیجنے والے کی مکمل تصدیق ضروری ہے، کیونکہ سائبر فراڈ اور فشنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں ڈیجیٹل فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر شہریوں میں آگاہی انتہائی ضروری ہو گئی ہے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ دھوکے سے محفوظ رہ سکیں۔













بدھ 13 مئی 2026 
