چین کی سفارتی چال کامیاب، مارکو روبیو سے “مارکو لو” بنادیا

Calender Icon جمعرات 14 مئی 2026

بیجنگ ،چین نے امریکی وزیر خارجہ(american foreign minister) مارکو روبیو کو پابندیوں کے باوجود بیجنگ میں ہونے والے اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے کیلئے ایک غیرمعمولی سفارتی اور لسانی حکمتِ عملی اختیار کی۔

برطانوی خبر رساں اداروں کے مطابق چین نے روبیو کے نام کی چینی زبان میں ہجے تبدیل کر دیے، جس کے بعد انہیں سرکاری دستاویزات میں “مارکو لو” کے نام سے درج کیا گیا۔ اس تبدیلی نے چین کو یہ موقع دیا کہ وہ پابندیاں باضابطہ طور پر ختم کیے بغیر روبیو کو ملک میں داخلے کی اجازت دے سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران روبیو بھی امریکی وفد کا حصہ تھے اور انہوں نے شی جن پنگ سے ملاقاتوں میں شرکت کی۔

مارکو روبیو پر چین نے 2020 میں دو مرتبہ پابندیاں عائد کی تھیں، جب وہ امریکی سینیٹر تھے۔ چین نے ان پر ہانگ کانگ میں بیجنگ مخالف مظاہروں اور سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے مبینہ انسانی حقوق کے مسائل پر سخت تنقید کرنے کے باعث پابندیاں لگائی تھیں۔

روبیو نے بطور سینیٹر ایغور جبری مشقت روکنے کے قانون کی بھی حمایت کی تھی، جس کے تحت امریکی کمپنیوں کیلئے لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ ثابت کریں کہ سنکیانگ سے درآمد کی جانے والی مصنوعات جبری مشقت سے تیار نہیں کی گئیں۔

مزید پڑھیں:ایپسٹین درندگی کی نئی کہانی؟ متاثرہ ازبک ماڈل کے ہولناک انکشافات

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ اگر روبیو صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین آئیں تو پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔