ایران (Iran) نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک اور سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے ایک نیا میکانزم تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے جلد باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی کے مطابق اس نئے نظام کے تحت آبنائے ہرمز میں مخصوص روٹس پر بحری آمد و رفت کو منظم کیا جائے گا اور ٹریفک کنٹرول کے لیے ایک پیشہ ورانہ فریم ورک قائم کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے لیے سہولت فراہم کرے گا، جبکہ اس کے تحت خصوصی خدمات کے عوض فیس بھی وصول کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض مخصوص غیر ملکی آپریٹرز اس روٹ کے استعمال سے مستثنیٰ یا محدود ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں؛وزیراعظم شہباز شریف کی کیچ واقعے کی مذمت، شہید لیڈی کانسٹیبل کو خراجِ عقیدت
دوسری جانب ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب امیر سعید اراوانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات کی ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ایران کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ایران کو حالیہ عرصے میں دو غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن کے اثرات فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں۔












ہفتہ 16 مئی 2026 