کووِڈ سے بچاؤ میں بڑی پیش رفت، اینٹی وائرل گولی کے مثبت نتائج سامنے آ گئے

Calender Icon پیر 18 مئی 2026

عالمی طبی ماہرین نے کووِڈ-19(covid-19) کے خلاف ایک نئی اینٹی وائرل گولی کے نتائج کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ وائرس کے سامنے آنے کے بعد انفیکشن کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ تحقیق معروف طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جاپانی دوا ساز کمپنی شیونوگی کی تیار کردہ دوا “اینسیٹریل ویر” (Ensitrelvir) نے کلینیکل ٹرائلز میں حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔ مطالعے میں دیکھا گیا کہ جن افراد کو یہ دوا دی گئی، ان میں کووِڈ کی علامات پیدا ہونے کی شرح نمایاں طور پر کم رہی، یعنی تقریباً 9 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد تک آگئی۔

ماہرین کے مطابق یہ پہلی اینٹی وائرل گولیوں میں سے ایک ہے جس نے سائنسی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ یہ صرف علاج نہیں بلکہ وائرس کے رابطے کے بعد انفیکشن کے خطرے کو بھی کم کر سکتی ہے۔ اس کو خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے جو زیادہ خطرے میں ہیں، جیسے بزرگ افراد، کیئر ہومز میں رہنے والے لوگ، یا وہ مریض جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔

اینسیٹریل ویر ایک مخصوص اینزائم کو بلاک کرتی ہے جس کی مدد سے کورونا وائرس جسم میں اپنی نقول بناتا ہے۔ جب یہ عمل رک جاتا ہے تو وائرس کی افزائش بھی سست یا مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے۔ یہی بنیادی طریقہ کار کچھ دیگر اینٹی وائرل ادویات میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم اس نئی دوا کو اس لحاظ سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کہ اس نے رابطے کے بعد انفیکشن روکنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔

مزیدپڑھیں:بجلی کے بل مہنگے، ایف بی آر کے ٹیکس نظام پر سوالات اٹھ گئے

یہ تحقیق جون 2023 سے ستمبر 2024 کے درمیان کیے گئے ایک بین الاقوامی ٹرائل پر مبنی ہے جس میں 2000 سے زائد افراد کو شامل کیا گیا۔ ان افراد کا تعلق ایسے گھروں سے تھا جہاں ایک شخص میں کووِڈ کی علامات پہلے ہی ظاہر ہو چکی تھیں۔

نتائج کے مطابق جن افراد کو اصل دوا کے بجائے پلیسبو دیا گیا، ان میں انفیکشن اور علامات ظاہر ہونے کی شرح زیادہ رہی، جبکہ اصل دوا لینے والوں میں یہ شرح واضح طور پر کم دیکھی گئی۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں وبائی امراض کے خلاف حفاظتی علاج کے نئے دروازے کھول سکتی ہے، تاہم مزید تحقیق اور بڑے پیمانے پر آزمائشیں اب بھی ضروری ہیں۔