کانگو میں ایبولا کی نئی وبا، 65 ہلاکتیں اور 246 مشتبہ کیسز،دنیابھرمیں تشویش کی لہردوڑ گئی

Calender Icon ہفتہ 16 مئی 2026

افریقی صحت عامہ کی ایجنسی نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس(Ebola virus) کی نئی وبا پھیلنے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

صحت حکام کے مطابق وبا کا مرکز ملک کے مشرقی صوبے ایتوری میں ہے جہاں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک اس بیماری کے نتیجے میں 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 246 مشتبہ کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں صحت کے نظام پر شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے اور طبی عملہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ماہرین اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس وبا میں ایبولا زائر وائرس کی شمولیت زیادہ ہے یا نہیں، جو ایبولا کی سب سے خطرناک اور مہلک قسم سمجھی جاتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات جاری ہیں تاکہ وائرس کی نوعیت اور پھیلاؤ کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 23 پیسے فی لیٹر کمی

دوسری جانب ہمسایہ ملک یوگینڈا میں بھی ایبولا سے متعلق ایک موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جس سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ یہ وائرس سرحدی علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔ متاثرہ علاقے مونگوالو اور روامپارا ہیلتھ زونز میں وائرس کے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جو کانگو کے مشرقی حصے میں واقع ہیں۔

یہ علاقہ جغرافیائی طور پر یوگینڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں کے قریب واقع ہے، جس کے باعث ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا سرحد پار ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔ عالمی صحت ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہنگامی ردعمل ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اسی خطے میں ایبولا کی وبائیں تباہ کن ثابت ہو چکی ہیں، اس لیے فوری نگرانی، رابطہ ٹریسنگ اور متاثرہ علاقوں میں رسائی محدود کرنے جیسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔