سندھ حکومت کا نجی اسکولوں کے خلاف بڑا ایکشن، غیر قانونی فیس واپس کرنے کا حکم

Calender Icon پیر 18 مئی 2026

محکمۂ اسکول ایجوکیشن سندھ (School Education Department Sindh) نے کراچی سمیت صوبے بھر کے نجی اسکولوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ دسویں جماعت کے طلبہ سے اپریل تا جولائی 2026 کے دوران وصول کی گئی غیر قانونی فیس فوری طور پر واپس کی جائے۔

ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد والدین کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں کہ نجی اسکولوں نے میٹرک کے طلبہ سے ان مہینوں کی بھی فیس وصول کی، جن میں طلبہ صرف امتحانات میں شریک ہوئے تھے۔

جاری کردہ گشتی مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بعض اسکولوں نے عملی امتحانات کا جواز پیش کرتے ہوئے اضافی فیس وصول کی، تاہم یہ مؤقف ناقابل قبول ہے کیونکہ عملی امتحانات کی فیس پہلے ہی ماہانہ فیس میں شامل ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں؛سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ: 500 نئی ای وی بسوں کی منظوری

حکام کے مطابق کچھ نجی اسکولوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ چونکہ تعلیمی سال اگست 2025 سے شروع ہوا تھا، اس لیے جولائی 2026 تک فیس وصول کرنا درست ہے۔ تاہم ڈائریکٹوریٹ نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کے خلاف اور مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔

محکمۂ تعلیم نے تمام متعلقہ نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ اپریل سے جولائی 2026 تک وصول کی گئی فیس فوری طور پر طلبہ کو واپس کی جائے، بصورتِ دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، ان کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے، جبکہ معاملہ مزید کارروائی کے لیے تعلیمی بورڈ کو بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔

حکام نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ انسپیکشن کمیٹیاں مختلف نجی اسکولوں کے دورے کریں گی اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر متعلقہ اداروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔