نصیر الدین شاہ کی بالی ووڈ پر کڑی تنقید، مذہبی شناختوں کے مذاق پر سوالات اٹھا دیے

Calender Icon منگل 19 مئی 2026

معروف بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ (Naseeruddin Shah)نے بالی ووڈ میں مذہبی اور سماجی شناختوں کی عکاسی کے انداز پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں مختلف مذاہب کو بار بار طنز اور مزاح کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، جو ایک طویل عرصے سے جاری رجحان ہے۔

فلموں میں مذہبی شناختوں کا استعمال

ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ نے کہا کہ بالی ووڈ نے اپنی کہانیوں میں سنسنی اور تفریح پیدا کرنے کے لیے مختلف مذہبی برادریوں کو اکثر ہدف بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ رویہ فلمی بیانیے میں سطحی اور دہرائے جانے والے کرداروں کو فروغ دیتا ہے۔

کون سا مذہب محفوظ رہا؟

اداکار نے سوال اٹھایا کہ آخر کون سا مذہب ہے جس کا فلموں میں مذاق نہیں اڑایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سکھ، پارسی اور عیسائی برادریوں کو اکثر مزاحیہ یا دقیانوسی انداز میں دکھایا گیا، جبکہ مسلمانوں کو زیادہ تر محدود اور مخصوص کرداروں میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:آسٹریلیا سیریز کے لیے پاکستان ون ڈے اسکواڈ کا اعلان جلد متوقع

مسلم کرداروں کی محدود پیشکش پر تنقید

نصیر الدین شاہ کے مطابق مسلمانوں کو زیادہ تر فلموں میں ایسے کرداروں تک محدود کر دیا گیا جو ہیرو کے دوست یا معاون کے طور پر نظر آتے ہیں اور اکثر کہانی کے آخر میں قربانی دیتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر حقیقت سے ہٹ کر ایک مخصوص سوچ کو مضبوط کرتا ہے۔

بالی ووڈ کو دقیانوسی تصورات کا مرکز قرار دیا

اداکار نے بھارتی سنیما کو ’’دقیانوسی تصورات کا ماسٹر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلمیں بار بار ایک ہی طرز کی کہانیوں اور کرداروں کو دہراتی ہیں، جس سے تخلیقی تنوع متاثر ہوتا ہے اور نئے موضوعات سامنے نہیں آ پاتے۔

معاشرتی رویوں اور سنیما کے اثرات پر سوال

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی معاشرے میں دوسروں پر طنز کرنا عام ہو چکا ہے جبکہ خود تنقید برداشت نہیں کی جاتی۔ نصیر الدین شاہ کے مطابق سنیما نے اس رویے کو مزید مضبوط کیا ہے اور اب اس پر سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب بھارتی فلم انڈسٹری اپنی صدی مکمل کر چکی ہے۔