ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا سے مشاورت کے بعد قطر کے مذاکرات کار(Qatari mediators) آج صبح ایران روانہ ہوگئے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطری مذاکرات کار ممکنہ ایران امریکا معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے آج ایران روانہ ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ قطری وفد کا یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں
حالانکہ 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ شب حملوں کا تبادلہ ہوا، جو جنگ بندی کے لیے اب تک کابڑا امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔
کاغذ پر جنگ بندی، میدانِ عمل میں خلاف ورزیوں نے تضادات کو بے نقاب کر دیا، باقر قالیباف
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران میں ایسے اہداف پر حملے مکمل کیے ہیں جو ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے ردعمل میں کیے گئے۔
ایک امریکی عہدیدار نے امریکی نیوز چینل کو بتایا کہ واشنگٹن کا خیال ہے یہ حملے مذاکراتی عمل کو متاثر نہیں کریں گے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو قیمت چکانا ہوگی کیونکہ اس نے معاہدے پر مذاکرات میں بہت زیادہ تاخیر کی۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔
مزید پڑھیں:قومی اقتصادی سروے 2026ء: حکومت بیشتر معاشی اہداف کے حصول میں ناکام
امریکی نیوز چینل سے گفتگو کرنے والے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ممکنہ معاہدے کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہو، جس کے بغیر کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔












بدھ 10 جون 2026 