کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈر سمیت 6 دہشتگرد ماسٹر مائنڈ قرار

Calender Icon جمعہ 3 جولائی 2026

گلستان جوہر میں رینجرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پر حملہ اور دھماکے سے متعلق سی ٹی ڈی(CTD) اور پولیس نے کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈر عمر قاری سمیت 6 دہشت گردوں کو حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دے دیا۔

سی ٹی ڈی نے ابتدائی رپورٹ انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں جمع کروا دی جس میں پولیس نے ملا عمر مولوی احرار، عبدالواجد و دیگر کو مفرور قرار دے دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار زخمی دہشت گرد نے 27 جون کو شب 9 بجکر 10 منٹ پر ورکشاپ کمپنی کے گیٹ پر دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔ گیٹ پر موجود رینجرز اہلکار حوالدار ریاض، سپاہی داؤد پرویز اور سپاہی عبد القدیر موقع پر شہید ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق جوابی کارروائی پر دو دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ عثمان عرف علی کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار دہشت گرد نے ہلاک ساتھیوں کے نام عمر، عبد الہادی اور خودکش کا نام جانان بتایا۔
گرفتار زخمی دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ اس کا تعلق افغانستان کے علاقے جلال آباد سے ہے، دہشتگرد جانان اور عمر افغان شہری تھے جبکہ عبد الہادی پاکستانی اور باجوڑ کا رہنے والا تھا، عبدالہادی عرصہ دراز سے افغانستان میں دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہے اور ایک ہفتہ قبل کراچی آیا تھا۔

مزیدپڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اچھی خبر

مقامی سہولت کاروں کی مدد سے دہشت گردوں نے کورنگی میں عارضی رہائش گاہ پر قیام کیا۔ دہشت گردوں نے رینجرز ورکشاپ کمپنی کی ریکی کی، چاروں دہشت گردوں کا تعلق کالعدم جماعت الاحرار افغانستان سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیم کے کمانڈر عمر قاری، مولوی احرار اور عبد الواجد نے دہشت گردوں کو حملہ کرنے کے لیے پاکستان بھیجا۔ افغانستان میں موجود کالعدم جماعت الاحرار کے ملا طاہر افغانی، ملا عبد المنان اور عمر آفریدی نے حملے کے لیے تربیت دی۔

حملے کے حوالے درج دیگر چار مقدمات پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔