دنیا بھر میں پٹرول کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ

Calender Icon اتوار 12 جولائی 2026

عالمی منڈی میں خام تیل(Crude Oil) کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث صارفین پر مالی بوجھ بڑھنے لگا ہے اور مہنگائی میں کمی کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکا سمیت مختلف خطوں میں ریفائن شدہ ایندھن کی قیمتیں خام تیل کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک بلند ہو گئی ہیں، ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں آنے والا اضافہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، تاہم پٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں 10 جولائی تک عام استعمال ہونے والے پٹرول کی اوسط قیمت 3.88 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، ماہرین کے مطابق خام تیل اور ریفائن شدہ ایندھن کی قیمتوں میں بڑھتا ہوا فرق ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔

مزیدپڑھیں:ایرانی حملوں کے خلاف خلیجی ممالک متحد، سعودی عرب، عمان اور کویت کے سخت بیانات سامنے آگئے

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے برآمدات پر ممکنہ پابندی، یوکرین جنگ کے اثرات اور مشرق وسطیٰ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایندھن کی عالمی سپلائی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے ہفتوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی کا بحران شدت اختیار کرتا ہے تو دنیا بھر میں سفر، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔