ٹرمپ کی ویڈیوز سے ٹیلر سوئفٹ کے گانے ہٹا دیے گئے

Calender Icon پیر 10 اگست 2026

معروف امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ(Taylor Swift) کے بعض گانے ان ویڈیوز سے ہٹا دیے گئے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کی گئی تھیں۔ وائٹ ہاؤس اور انتخابی مہم کے دوران ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کو متعدد بار پس منظر کی موسیقی کے طور پر استعمال کیا گیا تھا، تاہم اب بعض ویڈیوز سے یہ گانے ہٹا دیے گئے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اس معاملے پر وائٹ ہاؤس اور گلوکارہ کے نمائندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی رسمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گانے ویڈیوز سے کیوں ہٹائے گئے اور آیا اس سلسلے میں سوئفٹ یا ان کی ٹیم کی جانب سے کوئی باضابطہ اعتراض کیا گیا تھا۔

ٹیلر سوئفٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سیاسی اختلاف نیا نہیں ہے۔ اگرچہ گلوکارہ نے حالیہ دنوں میں کوئی تازہ بیان نہیں دیا، لیکن 2024 کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹک امیدوار کاملا ہریس کی حمایت کی تھی۔ اس سے پہلے 2020 کی انتخابی مہم کے دوران بھی ٹیلر سوئفٹ نے سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی شدید مخالفت کی تھی۔

سوئفٹ کی جانب سے کملا ہیرس کی حمایت کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر لکھا تھا کہ وہ ٹیلر سوئفٹ سے نفرت کرتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے سوئفٹ کی مقبولیت اور ظاہری کشش کے بارے میں بھی تنقیدی تبصرہ کیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے موسیقی کے استعمال کا معاملہ صرف سوئفٹ تک محدود نہیں رہا۔ کئی دوسرے معروف فنکار بھی انتظامیہ سے اپنی موسیقی استعمال نہ کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔ ان میں سبریانا کارپنٹر اور اریانا گرانڈے سمیت متعدد فنکار شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر سوئفٹ کے دو گانوں کے حوالے سے ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی۔ ویڈیو میں سوئفٹ کے مشہور گانوں کے ناموں اور ان کے بول کو سیاسی انداز میں تبدیل کرکے ٹرمپ کی پالیسیوں اور سیاسی مخالفین پر طنز کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں امریکی سرحد، سابق صدر جو بائیڈن اور کملا ہیرس کی انتظامیہ سمیت مختلف سیاسی موضوعات کا حوالہ دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جون میں بھی ٹرمپ کی مہم نے ٹیلر سوئفٹ کے ایک نئے گانے کو استعمال کرتے ہوئے ایک مختصر ویڈیو شائع کی تھی۔ اس ویڈیو میں ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں بچوں کے ساتھ ملاقات کرتے، ایک یو ایف سی مقابلے کے دوران رقص کرتے اور سیاسی ریلی سے خطاب کرتے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو کے ساتھ ٹرمپ کو امریکا اور امریکی عوام سے محبت کرنے والا قرار دیا گیا تھا۔

مزیدپڑھیں:چین میں طاقتور ترین طوفان ‘ڈولفن’ سے تباہی: دس لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی

اپریل میں بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں آرٹیمس ٹو مشن کے عملے کی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات دکھائی گئی تھی۔ اس ویڈیو میں سوئفٹ کا گانا ’ہائی انفائیڈیلیٹی‘ استعمال کیا گیا تھا اور گانے کے بول کو ویڈیو کے تناظر میں شامل کیا گیا تھا۔

اس سے قبل نومبر میں وائٹ ہاؤس کے ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے ایسی ویڈیو بھی شیئر کی گئی تھی جس میں سوئفٹ کے البم ’دی لائف آف شوگرل‘ کا گانا ’دی فیٹ آف اوفیلیا‘ استعمال کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں امریکی پرچم، مختلف امریکی یادگاروں اور صدر ٹرمپ کی تصاویر شامل تھیں، جن میں ان کی 2023 کی گرفتاری کے وقت لی گئی تصویر بھی شامل تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی کمیونیکیشن ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر مقبول گانوں اور سیاسی یا حکومتی سرگرمیوں کی تصاویر کو ملا کر ویڈیوز شائع کرتی رہی ہے۔ ان ویڈیوز میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری جیسے موضوعات بھی شامل رہے ہیں۔

ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کو ٹرمپ مہم اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے استعمال کیے جانے اور بعد میں بعض ویڈیوز سے ہٹائے جانے کی تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر سیاست میں معروف فنکاروں کی موسیقی کے استعمال کے سوال کو نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم، سوئفٹ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس مخصوص معاملے پر باضابطہ وضاحت سامنے آنے تک یہ واضح نہیں ہے کہ گانے ہٹانے کی اصل وجہ کیا تھی۔