وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے ہونا چاہیے، مذاکرات کا مقصد سرکاری گفتگو نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی بات سننا ہے۔
بلوچستان پاکستان کا وہ علاقہ ہے جو بلوچ اور پشتون اقوام پر مشتمل ہے اور بلوچ قوم کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی، رواداری اور عظیم روایات سے مزین ہے۔
بلوچستان سے متعلق مکالمے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے شرکا کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ڈائیلاگ کا مقصد آپ اور بلوچ عوام کی بات سننا ہے۔ بلوچستان کو درپیش مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔
وزیراعظم نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب بھی دیے،وزیراعظم نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بلوچستان کے مختلف حصوں نے پاکستان سے الحاق کیا، بلوچ عمائدین اور عوام نے دل کی آواز پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔ بلوچستان وہ صوبہ ہے جسے تاریخ نے شاندار الفاظ میں بیان کیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان میں مسائل موجود ہیں، تاہم مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے والا پاکستانی نہیں ہوسکتا۔ شناختی کارڈ کی بنیاد پر کسی کی جان لینا درست نہیں۔ مسائل کا حل صرف بات چیت میں ہے اور وسائل کی منصفانہ بنیاد پر تقسیم مسائل کے حل کا مؤثر طریقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے دشمن ممالک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عزت و وقار کی بات آئے تو تاریخ پکارتی ہے، اس معاملے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ بلوچستان کے پاس وسیع معدنی ذخائر ہیں اور یہ دولت وہاں کے عوام کی ہے، ان وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ شہدا اپنی جانیں قربان کرکے دوسروں کی زندگیاں بچا رہے ہیں۔ معرکہ حق کے دوران پوری قوم متحد تھی۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے دشمن ممالک ہیں، جبکہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قربانیاں دے کر عوام کو محفوظ بنا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن تک این-25 شاہراہ تعمیر کی جا رہی ہے، تاہم بدقسمتی سے شاہراہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو شہید کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے گوادر کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ خطے کی اہم ترین اور شاندار بندرگاہ ہے، جہاں ایک لاکھ ٹن مال بردار جہاز لنگر انداز ہوسکتا ہے۔ گوادر ایئرپورٹ عظیم دوست چین کی جانب سے تحفے میں ملا ہے۔
شہباز شریف نے بلوچستان میں زرعی شعبے کے لیے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 22 ہزار زرعی ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کیے گئے ہیں۔ 70 ارب روپے کے شمسی منصوبے میں وفاقی حکومت نے 40 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے مسائل کو افہام و تفہیم، بات چیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے بچے بھی معیاری تعلیم کے برابر حقدار ہیں، اسی مقصد کے تحت وفاقی حکومت بلوچستان کے 9 اضلاع میں دانش اسکول قائم کر رہی ہے۔
بلوچستان سے متعلق مکالمے کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کی چاروں اکائیاں ملک کے ترقیاتی عمل میں برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا سامنا ہے، اگر دہشت گردوں کو نہ روکا گیا تو صوبے میں ترقی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر وفاق نے فنڈنگ میں 100 فیصد اضافہ کیا، جبکہ پنجاب نے بلوچستان کو 11 ارب روپے فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا بجٹ رکھا ہے، جس میں بلوچستان کے لیے 200 ارب روپے جبکہ پنجاب کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ملک کی آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاول کے کاشتکاروں کو 11 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی بہتری اور کسانوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وزیراعظم کا بلوچستان کے نمائندہ افراد کو مکالمے کے لیے مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے اقدام سے بلوچستان کے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔
مزید پرھیں:امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین
وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم کو سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے بھی ہدایات جاری کیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی ترقی، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔













جمعہ 21 اگست 2026 

