وائرل گرافک جعلی، بلدیاتی امیدواروں کیلئے ایف اے، بی اے لازم نہیں

Calender Icon منگل 1 ستمبر 2026

فیکٹ چیک: الیکشن کمیشن نے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کیلئے FA اور BA کی شرط کا دعویٰ رد کر دیا
الیکشن کمیشن نے وائرل گرافک جاری کرنے کی تردید کر دی۔

پنجاب میں دسمبر میں متوقع بلدیاتی انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں میں کہا جا رہا ہے کہ کونسلر کا انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے لیے کم از کم ایف اے کی تعلیم اور کریکٹر سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے، جبکہ یونین کونسل کے چیئرمین کا الیکشن لڑنے کے لیے بی اے کی ڈگری اور کریکٹر سرٹیفکیٹ کی شرط عائد کی گئی ہے۔

یہ دعویٰ غلط ہے۔

23 اگست کو ایک فیس بک صارف نے پوسٹ شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب میں آنے والے بلدیاتی انتخابات میں کونسلر کا الیکشن لڑنے کے لیے امیدواروں کے پاس کم از کم ایف اے کی ڈگری اور کریکٹر سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔

اس پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ یونین کونسل کا چیئرمین بننے کے لیے بی اے کی ڈگری اور کردار کا سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔

گرافک پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کا لوگو موجود تھا، جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ یہ شرائط الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔

اس آرٹیکل کے شائع کئے جانےکے وقت تک پوسٹ کو 429 بار ری شیئر کیا جا چکا تھا۔

یہ پوسٹ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اسی طرح کے دعووں کے ساتھ شیئر کی گئی۔

حقیقت
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان تمام اطلاعات کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے ایف اے یا بی اے کی ڈگری اور کریکٹر سرٹیفکیٹ ہونا بالکل لازمی نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن یا ہدایت نامہ جاری نہیں کیا۔

پنجاب میں الیکشن کمیشن کی ترجمان ہدیٰ علی گوہر نے جیو فیکٹ چیک کو بھیجے گئے پیغامات میں بتایا کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والا گرافک کمیشن کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا تھا۔

ہدیٰ علی گوہر نے اپنے تحریری جواب میں کہا:”ای سی پی کی جانب سے ایسا کوئی گرافک جاری نہیں کیا گیا اور یہ بلا شبہ جعلی ہے۔”

ہدیٰ علی گوہر نے بعد میں 28 اگست کو جاری کردہ ECP کی پریس ریلیز بھی شیئر کی جس میں اسی دعوے کی تردید کی گئی تھی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر ایک نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یونین کونسل کے چیئرمینوں کے لیے بی اے کی ڈگری، کونسلرز کے لیے ایف اے کی ڈگری اور کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ یہ معلومات غلط تھیں۔

فیکٹ چیک: وائرل گرافک جعلی، بلدیاتی امیدواروں کیلئے ایف اے، بی اے لازم نہیں

لاہور،پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی دفعہ 67 امیدواروں کی اہلیت اور نااہلی کی شرائط طے کرتی ہے۔ دیگر ضروریات کے علاوہ، امیدواروں کا متعلقہ ووٹر فہرست میں درج ہونا اور عمر کی کم از کم حد پر پورا اترنا ضروری ہے۔

اس سیکشن میں مقامی حکومت کی رکنیت کے لیے امیدواروں کے پاس ایف اے کی تعلیم، یا مقامی حکومت کے سربراہان کے امیدواروں کے لیے بی اے کی ڈگری کی کوئی شرط شامل نہیں ہے۔

نامزدگی اور انتخابات کے طریقہ کار سے متعلق پنجاب لوکل گورنمنٹ (الیکشن) رولز 2026 میں بھی امیدواروں کے لیے ایف اے یا بی اے کی ڈگری اور کردار کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:یو اے ای میں رمضان اور عیدین 2027 کی متوقع تاریخوں کی فلکیاتی پیشگوئی

فیصلہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق وائرل گرافک اس کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا، جبکہ پنجاب کے لوکل گورنمنٹ قانون اور الیکشن رولز میں بھی امیدواروں کے لیے ایف اے یا بی اے کی ڈگری اور کریکٹر سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے۔