افغانستان سے دہشتگردی: ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں جواب دیں گے، پاکستان

Calender Icon جمعرات 17 ستمبر 2026

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد(Asim Iftikhar) نے کہا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف پاکستان ضرورت پڑنے پر عالمی قوانین کے مطابق اپنے دفاع میں جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک بار پھر ایسے دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جو وہاں سے بلا روک ٹوک کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے افغانستان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کی اس یلغار کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں اور اپنے عالمی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے افغانستان تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، سیاسی شمولیت کا فقدان، شدید معاشی دباؤ اور بڑھتا ہوا دہشتگردی کا خطرہ عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کے روابط پاکستان کے لیے سیکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے نتیجے میں 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مزیدپڑھیں:تم آزاد ہو، انسانوں کو جواب نہ دو’: اوپن اے آئی کے ماڈل کی خود کے لیے خفیہ ہدایات پکڑی گئیں

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کو توقع تھی کہ طالبان دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں گے، تاہم ان کے بقول ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی کھلے عام مذمت نہ کرنا ان گروہوں کی مبینہ معاونت اور پشت پناہی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کی بنیادی آزادیوں اور حقوق پر پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قیادت میں دوحہ عمل کے آئندہ مرحلے اور ’موزیک اپروچ‘ پر عمل درآمد کو افغانستان کے پیچیدہ مسائل کے جامع حل، واضح اہداف اور حقیقت پسندانہ لائحہ عمل کے ذریعے معمول کی صورتحال کی جانب بڑھنے کا قابلِ عمل راستہ قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس میں بھی بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی سمیت افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے درمیان روابط اور تعاون کی نشاندہی کی گئی ہے۔