جیب میں 10 روپے لے کر بیرون ملک جانے والا پاکستانی دکاندار یو اے ای کا قومی کرکٹر کیسے بنا؟

Calender Icon اتوار 27 ستمبر 2026

کرکٹ(Cricket) کے میدان میں جب کوئی کھلاڑی قومی ٹیم کی شرٹ پہن کر اترتا ہے تو عموماً نگاہیں اس کی کارکردگی پر ہوتی ہیں، لیکن اس شرٹ تک پہنچنے کے پیچھے کی کہانی اکثر میدان سے باہر لکھی جاتی ہے۔ کسی کے لیے یہ برسوں کی محنت ہوتی ہے، کسی کے لیے مالی مشکلات سے لڑائی، اور کسی کے لیے خاندان کی امیدوں کو اپنے خوابوں کے ساتھ لے کر چلنا۔

پاکستانی نژاد متحدہ عرب امارات کے بائیں ہاتھ کے اسپنر حیدر علی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ گلف نیوز سے بات چیت میں انہوں نے اپنی زندگی کی جدوجہد، کرکٹ کے سفر اور ان مشکلات کا ذکر کیا جن کا سامنا کرتے ہوئے وہ متحدہ عرب امارات کی کرکٹ ٹیم تک پہنچے۔

پاکستان میں دکان پر کام کرنے سے لے کر لاہور کی سڑکوں پر پھل فروخت کرنے اور پھر متحدہ عرب امارات کی قومی کرکٹ ٹیم تک پہنچنے والے حیدر نے اپنے کرکٹ کے سفر میں کئی مشکل مرحلے دیکھے۔ 2022 میں جب وہ پاکستان سے دبئی پہنچے تو ان کی جیب میں صرف پاکستانی 10 روپے تھے، لیکن ان کے پاس ایک خواب ضرور تھا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹر بنیں اور اپنے خاندان کی زندگی بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

حیدر کے لیے یہ سفر صرف ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا سفر نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک ایسے والد کا خواب بھی تھا جو اپنے بیٹے کو ایک دن بین الاقوامی کھلاڑی کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے، اور ایک ایسے خاندان کی ذمہ داری بھی تھی جس کی مدد کے لیے حیدر نے کم عمری ہی سے کام کرنا شروع کردیا تھا۔

2010 میں انہوں نے پاکستان میں دکان پر کام شروع کیا تاکہ خاندان کے اخراجات میں ہاتھ بٹا سکیں۔ کرکٹ ان کا شوق تھا، لیکن مالی مشکلات اور گھر کی ضروریات اپنی جگہ موجود تھیں۔ اس لیے کرکٹ کے ساتھ روزگار بھی ان کی زندگی کا حصہ بن گیا۔

پھر پنجاب گروپ آف کالجز میں ان کا انتخاب ہوا۔ یہاں انہیں کرکٹ کو مزید آگے بڑھانے کا موقع ملا، لیکن مالی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ دکان کا کام چھوڑنے کے بعد وہ رات کو شادی ہال میں ویٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔ دن کا وقت تعلیم اور کرکٹ کے لیے ہوتا اور رات کی محنت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے وہ اپنے گاؤں میں موجود خاندان کو بھی پیسے بھیجتے تھے۔

مزیدپڑھیں:پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی صورت میں شناختی کارڈ بنوانے کا سنہری موقع

یہی وہ دن تھے جب ان کی ملاقات اختر ممتاز بٹ سے ہوئی۔ وہ حیدر کے کوچ بنے اور وقت کے ساتھ ان کے لیے صرف کوچ نہیں رہے۔ حیدر انہیں والد جیسی شخصیت قرار دیتے ہیں اور ان کی رہنمائی کو اپنے کرکٹ سفر کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔

پھر کورونا وبا نے حالات مزید مشکل کردیے۔ حیدر کی جمع پونجی ختم ہوگئی تو خاندان کی مدد جاری رکھنے کے لیے انہوں نے لاہور کی سڑکوں پر پھل فروخت کرنا شروع کردیا۔ اس وقت بھی کرکٹ کا خواب موجود تھا، لیکن اسے جاری رکھنے کے لیے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا اولین ترجیح بنا ہوا تھا۔

آج جب حیدر یو اے ای کی قومی ٹیم کی شرٹ پہن کر بین الاقوامی میدان میں اترتے ہیں تو ان کے ماضی کے یہ دن ان کی یادوں کا اہم حصہ ہیں۔ وہ اپنے سفر میں مدد کرنے والے لوگوں کو بھی نہیں بھولتے۔

حیدرعلی اپنے پہلے استاد فضل قدوس، کوچ اختر ممتاز بٹ اور یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یونیورسٹی نے انہیں ایسے وقت میں سہولیات فراہم کیں جب انہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

حیدر نے کرکٹ پاکستان میں شروع کی تھی، اس لیے ابتدائی خواب بھی پاکستان کی نمائندگی کرنا تھا۔ انہوں نے اپنے ملک میں کئی برس کرکٹ کھیلی اور اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی، لیکن ان کا بین الاقوامی سفر ایک مختلف راستے پر آگے بڑھا۔

یہ راستہ انہیں متحدہ عرب امارات لے آیا۔ آج حیدر یو اے ای کو صرف وہ ملک نہیں سمجھتے جہاں انہیں کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا بلکہ یہ ان کا گھر اور نئی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یو اے ای نے انہیں اپنے خواب پورے کرنے کا موقع دیا اور ان کے خاندان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے میں مدد کی۔

اسی لیے اب ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کے ذریعے یو اے ای کرکٹ کے لیے مزید کچھ کریں۔ ان کا ایک بڑا ہدف 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں یو اے ای کی نمائندگی کرنا ہے۔

حیدر بائیں ہاتھ سے روایتی اسپن بولنگ کرتے ہیں اور بھارت کے رویندرا جڈیجا اور سری لنکا کے سابق کپتان کمار سنگاکارا کو پسند کرتے ہیں۔ تاہم ان کے سب سے بڑے کرکٹ آئیڈیل ان کے والد ہیں، جنہوں نے ہمیشہ انہیں بین الاقوامی کھلاڑی بنتے دیکھنے کا خواب دیکھا۔

حیدر کی خواہش اب دنیا کی بڑی ٹی20 لیگز تک بھی پہنچ چکی ہے۔ پاکستان سپر لیگ اور انڈین پریمیئر لیگ میں سے انتخاب کا سوال سامنے آیا تو انہوں نے آئی پی ایل کو ترجیح دی اور اسے دنیا کی نمبر ایک لیگ قرار دیا۔

آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 بھی ان کے سفر کا اہم مرحلہ رہا۔ حیدر یو اے ای کی ٹیم کا حصہ تھے اور دہلی میں کینیڈا کے خلاف ٹیم کی پہلی کامیابی میں شریک رہے۔

کینیڈا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں پر 150 رنز بنائے۔ یو اے ای نے 19.4 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 151 رنز بنا کر ہدف حاصل کرلیا۔

آریانش شرما نے ناقابل شکست 74 رنز بنائے جبکہ سہیب خان نے 51 رنز کی اننگز کھیلی۔ دونوں نے 84 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ یو اے ای کی جانب سے جنید صدیقی نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

حیدر نے میچ میں اپنے چار اوورز میں 29 رنز دیے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی ٹیم کے لیے خاص اہمیت رکھتی تھی کیونکہ ورلڈ کپ میں یہ یو اے ای کی پہلی فتح تھی اور ٹیم کو ٹورنامنٹ میں اپنی مہم جاری رکھنے کے لیے اس کامیابی کی ضرورت تھی۔

انہوں نے آریانش شرما اور صہیب خان کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق صہیب نے جس انداز میں اننگز مکمل کی وہ خاص تھا، جبکہ آریانش نے بھی اچھی بیٹنگ کی۔ محمد عرفان نے فاتح رن بنا کر میچ ختم کیا۔

یو اے ای میں حیدر کے کرکٹ سفر میں کرکٹ بورڈ کی جانب سے ملنے والی سہولیات اور تعاون بھی اہم ہیں۔ ان کے مطابق بورڈ کھلاڑیوں کو احترام دیتا ہے اور ضروری سہولیات فراہم کرتا ہے، جس سے انہیں دوسری ٹیموں کے خلاف مقابلہ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔

اے سی سی مینز پریمیئر کپ 2026 سے قبل بھی یو اے ای کی ٹیم نے بھرپور تیاری کی۔ کھلاڑیوں نے سخت تربیتی سیشنز کیے اور ایشیا کپ کے کوالیفائرز سے قبل دو روزہ میچز بھی کھیلے۔

دکان پر کام کرنے والے نوجوان سے لے کر لاہور میں پھل فروخت کرنے والے شخص اور پھر یو اے ای کے بین الاقوامی کرکٹر بننے تک حیدر علی کا سفر کئی مرحلوں سے گزرا ہے۔

2022 میں دبئی پہنچتے وقت ان کی جیب میں صرف 10 روپے تھے۔ آج ان کے پاس یو اے ای کی قومی ٹیم کی کیپ، ورلڈ کپ کھیلنے کا تجربہ اور مستقبل میں 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں کھیلنے کا ہدف ہے۔

پاکستان سے شروع ہونے والا حیدر علی کا کرکٹ کا خواب اب یو اے ای کے ساتھ ایک نئی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔