اسلام آباد میں لانگ مارچ کی قطعاً کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی،رانا ثنا اللہ

Calender Icon جمعہ 2 اکتوبر 2026

اسلام آباد ( طارق محمود سمیر ) وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور خیبر پختون خواہ میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور افغان پالیسی سے متعلق پہ بات کی گئی احتجاج سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن احتجاج پر تشدد نہیں ہونا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ نماز جمعہ کے وقفہ کے بعد شیری رحمان نے بھی بات کی اور امیر مقام نے بھی اپنا موقف پیش کیا اور دوسرے سیشن میں زیادہ گفتگو علامہ راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر علی خان نے کی ۔ اسد قیصر نے بھی مختصر بات چیت کی ۔ انہوں نے مقدمات ، گرفتاریوں اور عمران خان سے ملاقات سے متعلق معاملات اٹھائے جبکہ عمران خان کے علاج معالجے کے متعلق بھی بات کی گئی ۔

ہماری طرف سے واضح طور پر اور دو ٹوک الفاظ میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور بالخصوص وزیراعلی سے مشاورت کر کے کل تک ہمیں یہ پیغام دے دیا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں وفاقی حکومت کے ساتھ کس انداز میں صوبائی حکومت تعاون کرے گی کیونکہ ہمیں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مکمل سو فیصد تعاون درکار ہے ۔ کے پی حکومت اس پر دو ٹوک ہمیں جواب دے ۔

لانگ مارچ کی جہاں تک بات ہے یہ لانگ مارچ اپنے صوبے میں جہاں ان کی حکومت ہے وہاں کریں پشاور مردان کوہاٹ جہاں کرنا چاہتے کریں لیکن اسلام آباد کے اندر لانگ مارچ لانے کی قطعاً کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس حوالے سے واضح اور دو ٹوک فیصلہ ہے سیاسی اور عسکری قیادت نے کچھ عرصہ قبل ہی یہ فیصلہ کیا تھا احتجاجی دھرنوں کو اسلام آباد سے دور رکھا جائے یہ لاہور میں کر لیا جائے کراچی میں ، پشاور میں لے جائیں وہاں کریں یہاں پہ بالکل اس کی اجازت نہیں ہے ۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے آپشن حکومت کے پاس موجود ہیں آرٹیکل 232 اور 234 کے حوالے سے تمام معاملات وزارت قانون کے پاس موجود ہیں اور جو ضروری کارروائی ہوتی ہے وہ کر کے رکھی گئی ہے جہاں تک یہ سوال ہے کہ صوبائی حکومت اگر تعاون نہیں کرتی سیکیورٹی کے معاملات میں تو پھر کیا ہوگا یہ پھر جب جواب آئے گا تو پھر بتائیں گے ۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف خود بھی یہ آن ریکارڈ کہہ چکے ہوئے ہیں کہ ایمرجنسی اور گورنر اج کا نفاذ ایک ناپسندیدہ عمل ہے اگر یہ کیا جائے گا تو بہت مجبوری میں کیا جائے گا کے پی حکومت کو چاہیے کہ اسی طرح وفاق کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں تعاون کریں جیسے وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کر رہے ہیں ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سہیل آفریدی اگر نا اہل ہو گئے تو ان کے جانے کے بعد کیا ہوگا تو انہوں نے کہا ہمیں سہیل آفریدی کے جانے یا رہنے سے کوئی غرض نہیں ہے وفاق کا صرف ایک ہی مقصد ہے ایک ہی مفاد ہے کہ ملکی سالمیت کے لئے جو دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں اس میں صوبائی حکومت اور وزیر اعلی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں کیونکہ وہ آئینی قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے سیاست کر رہے ہیں ، سیاسی جدوجہد وہ کریں لیکن سیاسی جدوجہد کی آڑ میں ملکی سالمیت کے لئے خطرات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

رانا ثنا اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ آج مذاکرات کے دوران یہ تجویز بھی آئی کہ عمران خان سے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی ملاقات کرا دی جائے تو ہم گارنٹی دیتے ہیں یہ سارے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے تو اس پر شیری رحمان نے کہا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ملاقات کرا دی جائے اور پھر بھی صورتحال بہتر نہ ہو رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی ملاقاتیں کرائی گئی تھیں ان کا کیا نتیجہ نکلا تھا وہ بھی سب کے سامنے ہے جہاں تک علاج کی بات ہے مکمل علاج کرایا گیا ہے اگر عمران خان خود بھی ہوتے تو اس سے بہتر علاج نہ کروا سکتے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مقتدرہ نے یہ نہیں کہا کہ مذاکرات نہ کیے جائیں مقتدرہ کی اسٹیبلشمنٹ کی یہ واضح سوچ اور درست سوچ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جو کاروائیاں ہو رہی ہیں اس میں صوبائی حکومت کا تعاون درکار ہے اور دہشت گردی کی صورتحال پہ مقتدرہ کو شدید تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا فیصلہ صدر اور وزیر اعظم نے متفقہ طور پر کیا اور ہمیں یقین ہے ان دونوں نے مذاکرات سے قبل اسٹیبلشمنٹ کو آن بورڈ ضرور لیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کہتے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہاؤس نہیں جائیں گے تو کیا وزیراعظم کسی کھوکھے میں جا کر ان کے ساتھ چائے پی کر مذاکرات کریں ایسا نہیں ہوتا وزیراعظم کا اپنا لیول ہے محسن نقوی کا اپنا لیول ہے جو خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی نے 11 ماہ میں ایک اپیکس کمیٹی کا اجلاس کیا ہے حالانکہ ہر ماہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس اس صورتحال میں ہونا چاہیے ۔

اپوزیشن کے ساتھ جو بھی مذاکرات ہو رہے ہیں اس کا کریڈٹ وزیراعظم کو بھی جاتا ہے کیونکہ وزیراعظم نے کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے بینچوں پر جا کر انہیں مذاکرات کی پیشکش کی انہوں نے کہا کہ ایک طرف محمود خان اچکزئی وزیراعظم کو الیکشن کمیشن کے معاملے میں خط لکھتے ہیں اور انہیں وزیراعظم تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ یہ کہتے ہیں کہ میں شہباز شریف کو وزیراعظم تسلیم نہیں کرتا اور وزیراعظم ہاؤس میں ان سے ملاقات کرنے کے لیے نہیں جاؤں گا تو یہ تو دوہرہ معیار ہوا ۔ محمود خان اچکزئی نے لیٹر لکھ کر وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم تسلیم کیا ہے ۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا بڑا مثبت رویہ تھا انہیں نیویارک سے فون کیا گیا تو انہوں نے اپنا لانگ مارچ موخر کر دیا ایک سوال پر کہا کہ ہو سکتا ہے کل مثبت نتیجہ نکلے اور وزیر اعلی آئینی اور قانونی کردار ادا کریں باقی چیزوں پہ بھی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی ۔