مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی وفد کے پاس مکمل فیصلہ سازی کا مینڈیٹ موجود نہیں تھا:طارق فضل چوہدری

Calender Icon پیر 5 اکتوبر 2026

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری(Tariq Fazal Chaudhry) نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے وفد کے پاس مکمل فیصلہ سازی کا مینڈیٹ موجود نہیں تھا، جبکہ مذاکرات کا بنیادی مقصد لانگ مارچ رکوانا نہیں بلکہ دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی یا صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ شریک ہوتا تو معاملات زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے تھے، ان کے مطابق لانگ مارچ نہ پہلے حکومت کے لیے درد سر تھا اور نہ اب ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومتی وفد نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کے وفد کے سامنے سات مطالبات رکھے تھے اور سوال کیا کہ ان میں سے کون سا مطالبہ غیر آئینی یا ناقابلِ عمل ہے۔

ان کے مطابق حکومت کا پہلا مطالبہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگردوں کی مذمت کرنا تھا، جبکہ دوسرا مطالبہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے تمام ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ تھا۔

مزیدپڑھیں:ماہ ستمبر میں جنوبی بلوچستان سے 435 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار

طارق فضل چوہدری نے کہاکہ تیسرے مطالبے کا تعلق افغانستان سے متعلق طے شدہ خارجہ پالیسی پر عملدرآمد سے تھا، جبکہ چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پانچویں مطالبے میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹے میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران مسلح افواج کے ساتھ تعاون اور ساتویں مطالبے میں نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد شامل تھا۔