وفاقی آئینی عدالت کاپروبیشن پر تعینات ملازمین سے متعلق بڑا فیصلہ

Calender Icon جمعرات 8 اکتوبر 2026

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پروبیشن (آزمائشی مدت) پر تعینات ملازم کو مستقلی یا ملازمت جاری رکھنے کا کوئی مستقل یا حاصل شدہ حق حاصل نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر پروبیشن کی مدت کے دوران ملازمت ختم کرنا برطرفی یا ملازمت سے اخراج کے مترادف نہیں ہوتا، بلکہ یہ ادارے کی مقررہ تقرری کی شرائط کے مطابق ہوتا ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ڈائریکٹر جنرل نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اور دیگر کی جانب سے راحت محمود کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کا 31 مارچ 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پروبیشن کے دوران غیر تسلی بخش کارکردگی پر راحت محمود کی ملازمت ختم کرنے کا حکم بحال کر دیا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ پروبیشن کا مقصد آجر کو یہ جانچنے کا موقع دینا ہے کہ ملازم مطلوبہ صلاحیت اور کارکردگی رکھتا ہے یا نہیں۔ پروبیشنر اگرچہ کسی سول پوسٹ پر تعینات ہوتا ہے تاہم اس دوران وہ عارضی ملازم کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے مستقلی کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ عام حالات میں صرف غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر ملازمت ختم کرنے سے پہلے سماعت کے حق کا اصول لاگو نہیں ہوتا، تاہم بدعنوانی یا مس کنڈکٹ کے الزامات کی صورت میں قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ راحت محمود کے معاملے میں آئین کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی کا کوئی عنصر ثابت نہیں ہوا، اس لیے نمل کی اپیل منظور کی جاتی ہے۔