خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے علاقائی ترقیاتی کونسل تشکیل، شوکت اللہ خان چیئر پرسن نامزد

Calender Icon اتوار 18 اکتوبر 2026

وفاقی حکومت(Federal Government) نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے 48 ارکان کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق باجوڑ سے شوکت اللہ خان کو چیئرپرسن اور شمالی وزیرستان سے ملک خان مرجان کو وائس چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق کونسل کے ارکان کا انتخاب متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے تعاون سے منعقدہ مقامی جرگوں میں باہمی مشاورت کے ذریعے کیا گیا۔ نامزدگیوں کی کارروائی ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈمنسٹریٹر علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹ کے ذریعے مکمل کی گئی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع باجوڑ سے شوکت اللہ خان، شہاب الدین خان، ملک سلطان زیب اور حاجی لالی شاہ کونسل کے ارکان نامزد ہوئے ہیں، جبکہ ضلع مہمند سے ملک فیاض خان، ملک نادر منان اور ملک صاحب خان امبر کو شامل کیا گیا ہے۔ ضلع خیبر سے ملک عبدالرزاق، ملک عزت اللہ، ملک صلاح الدین، ملک ظاہر شاہ اور شیریں خان کونسل کا حصہ ہوں گے۔

ضلع کرم سے منیر حسین بنگش، ملک عبدالولی خان، ملک زمین حسین، سید ولی سید میاں اور احسان اللہ احسان، جبکہ ضلع اورکزئی سے لال مان شاہ، سید فخر عباس اور فیض اللہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے سونے کی مبینہ ڈکیتی کا معمہ حل

شمالی وزیرستان سے وائس چیئرپرسن ملک خان مرجان کے علاوہ ملک نصراللہ، ملک حاجی شیر محمد، مفتی مصباح اللہ خان اور ملک حبیب خان کونسل میں شامل ہیں۔

جنوبی وزیرستان اپر سے صالح شاہ، ملک عرفان الدین احمد برکی، ملک محمد رومان محسود اور ملک رمتال خان، جبکہ جنوبی وزیرستان لوئر سے ملک علاؤالدین وزیر، ملک جمیل توجی خیل، ملک معین الدین وزیر اور ملک سردار عباس کو رکن نامزد کیا گیا ہے۔

اسی طرح ضلع بنوں سے باز محمد خان، مولانا عبدالغفار قریشی، ملک شیریں اور ملک احسان خان، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے عبدالحلیم، سردار آغاز خان، سردار عباد خان اور قیصر خان ایڈووکیٹ کونسل میں شامل ہوں گے۔

ضلع ٹانک سے نوابزادہ عبدالوہاب، عبداللہ ننگیال اور عرفان اللہ کنڈی، جبکہ لکی مروت سے مولانا عمر اشرفی، ملک ادریس خان، نجیب اللہ خان اور رحمت اللہ عرف متی کو نامزد کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق کونسل کے قیام کا مقصد مقامی جرگوں اور علاقائی نمائندوں کی مشاورت سے ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر بنانا، انتظامی شفافیت کو فروغ دینا اور مقامی مسائل کی نشاندہی کرنا ہے، تاکہ متعلقہ اضلاع کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی اقدامات کیے جاسکیں۔