پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہو کر 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔ ورلڈ بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کے بیرونی قرض میں 66.4 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کا مجموعی بیرونی قرض 2025 میں 5.5 فیصد اضافے کے بعد ریکارڈ 9.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں نجی قرض دہندگان کی واپسی، بانڈز کے اجرا میں اضافے اور امریکی ڈالر کی قدر میں کمی نے قرضوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کے بیرونی قرضوں میں سرکاری اور سرکاری ضمانت والے قرضوں کے ساتھ آئی ایم ایف کریڈٹ کا مجموعی حجم 107.076 ارب ڈالر تھا جبکہ نجی شعبے کے غیر ضمانتی قرضے 17.58 ارب ڈالر اور قلیل مدتی بیرونی قرضے 10.45 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری قرض دہندگان میں کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے ذمے 56.83 ارب ڈالر، دوطرفہ قرض دہندگان کے ذمے 42.43 ارب ڈالر جبکہ نجی قرض دہندگان کے ذمے 7.8 ارب ڈالر واجب الادا تھے۔
سب سے زیادہ قرض چین نے دیا
پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض دہندہ چین ہے جس کے ذمے پاکستان کے 22.4 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ اس فہرست میں ورلڈ بینک 19.2 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) 16.83 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق سرکاری قرض دہندگان سے حاصل کیے گئے قرضوں کی اوسط مدت 16 سال ہے جن میں ادائیگی شروع ہونے سے پہلے 4 سال کی رعایتی مدت بھی شامل ہے جبکہ ان قرضوں پر اوسط شرح سود 3.6 فیصد ہے۔ اس کے برعکس نجی قرض دہندگان سے حاصل کیے گئے قرضوں پر اوسط شرح سود 8.6 فیصد ہے جن کی ادائیگی کی اوسط مدت 3 سال اور رعایتی مدت ایک سال ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل میناپ خطے میں قرضوں کی ادائیگی اور سود کے تناسب میں بہتری آئی ہے، تاہم مجموعی قومی آمدنی کے مقابلے میں بیرونی قرضوں کا تناسب 2025 میں بڑھ کر 29.4 فیصد ہوگیا جو اس سے گزشتہ سال 26.7 فیصد تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کسی بھی خطے میں ایک سال کے دوران ہونے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں چین نے پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے قرضوں کی مدت میں توسیع کی، جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی پروگرامز کے تحت پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر کی نئی رقوم فراہم کیں۔ ان رقوم کا مقصد ملک کے طویل مدتی معاشی استحکام کی حمایت کرنا تھا۔
عالمی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ
ورلڈ بینک کے مطابق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے بیرونی قرضوں میں 2025 کے دوران گزشتہ 4 سال میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان ممالک کے بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 5.5 فیصد بڑھ کر 9.4 ٹریلین ڈالر ہوگیا جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں میں بھی مسلسل پانچویں سال اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق ان ممالک نے 2025 میں اصل زر اور سود کی مد میں مجموعی طور پر 1.4 ٹریلین ڈالر ادا کیے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.9 فیصد زیادہ تھے۔ نجی قرض دہندگان کو ادائیگیوں میں اضافے نے اس رجحان میں اہم کردار ادا کیا جبکہ بانڈ ہولڈرز کو کی جانے والی ادائیگیاں 13.7 فیصد اضافے کے بعد 363.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2022 سے 2025 کے دوران ترقی پذیر ممالک نے نئے قرضوں کی صورت میں حاصل ہونے والی رقوم سے تقریباً 436.1 ارب ڈالر زیادہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کیے۔
مزید پڑھیں:حوثیوں کا جنگ بندی کیلئے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ، سعودیہ کی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی تردید
تاہم 2025 میں طویل مدتی قرضوں کے بہاؤ کی صورتحال تبدیل ہوئی اور 2024 میں 118.4 ارب ڈالر کے خالص اخراج کے مقابلے میں 2025 میں 45.4 ارب ڈالر کی خالص آمد ریکارڈ کی گئی۔













جمعہ 6 نومبر 2026 
