مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کی مبینہ وائرل ویڈیو کا سچ: فیکٹ چیک میں بڑا انکشاف

Calender Icon اتوار 8 نومبر 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر مولانا اسد محمود سے منسوب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک متنازع ویڈیو کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔

جہاں فیکٹ چیکنگ اداروں اور تکنیکی تجزیے نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ایک من گھڑت کوشش ہے۔

اسلام آباد: سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز ایکس (ٹوئٹر)، فیس بک اور ٹک ٹاک پر گزشتہ کچھ گھنٹوں سے ایک نجی و غیر اخلاقی (Explicit) ویڈیو کلپ تیزی سے وائرل ہو رہا تھا جس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بیٹے مولانا اسد محمود کی ہے۔

اس متنازع ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا اور صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ویڈیو کے کمنٹس سیکنڈ میں صارفین کی اکثریت نے اسے فوری طور پر جعلی اور تکنیکی جعلسازی قرار دیا۔

مختلف تکنیکی صارفین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کے حالیہ حکومت مخالف سخت ترین بیانات اور سیاسی موقف ہی اس جعلی ویڈیو کی اصل وجہ ہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق مولانا فضل الرحمن کو ان کی تند و تیز بیان بازی سے روکنے اور ان پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے ان کے بیٹے کی اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیو وائرل کی گئی ہے۔

معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے جب آزاد فیکٹ چیکنگ اداروں اور صحافتی تنظیموں نے اس وائرل ویڈیو اور اس پر جاری تبصروں کا تفصیلی جائزہ لیا تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئے:

صارفین کا ردِعمل اور تبصرے: ویڈیو کے نیچے تبصروں (Comments) میں صارفین نے نشاندہی کی کہ چہرے کے تاثرات اور فریم کے بارڈر میں واضح نقائص موجود ہیں، جو صاف ظاہر کرتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کی فٹیج پر اے آئی (AI) الگورتھم کے ذریعے چہرہ چپکایا گیا ہے۔

صارفین نے لکھا کہ “یہ تکنیکی جعلسازی ہے اور اسے سیاسی بلیک میلنگ کے لیے اے آئی ٹولز سے تیار کیا گیا ہے”۔

مصنوعی ذہانت (AI) ڈیٹیکشن کی تصدیق: جب اس ویڈیو کا سائبر فرانزک اور جدید ڈیپ فیک ڈیٹیکشن ٹولز سے تجزیہ کیا گیا تو 95 فیصد سے زائد تکنیکی شواہد نے اس بات کی تصدیق کی کہ ویڈیو مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ (AI Generated / Swapped) ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ترجمان جے یو آئی کی سخت تردید: جے یو آئی کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم اور ترجمان نے اس ویڈیو کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے ایک منظم اور غلیظ فیک مہم قرار دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق، مولانا فضل الرحمن کے اصول پر مبنی بیانات اور سیاسی مزاحمت کا مقابلہ نہ کرنے والے عناصر اس طرح کے غیر اخلاقی اور فیک مواد کا سہارا لے رہے ہیں، جس کے خلاف FIA سائبر کرائم میں قانونی کارروائی جاری ہے۔

سائبر کرائم اور ڈیجیٹل پالیسی کے ماہرین نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے اور ان کی آواز دبانے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی اور ڈیپ فیک ویڈیوز کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں:خلیج عمان، امریکی فوج کا ایرانی بندرگاہ سے آنیوالے بحری جہاز پر حملہ

 

ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر کسی سائنسی اور مستند تصدیق کے اس طرح کی جعلی اور غیر اخلاقی ویڈیوز کو آگے شیئر کرنے سے گریز کریں۔